ویب ڈیسک:متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم اور دبئی کے حکمران، شیخ محمد بن راشد المکتوم نے صرف 24 سال کی عمر میں ایک ہائی جیکنگ کے دوران 140 لوگوں کی جانیں بچائیں۔
یہ واقعہ 20 جولائی 1973 کو پیش آیا، جب جاپان ایئر لائنز کی پرواز 404، پیرس سے ٹوکیو جا رہی تھی۔ اس میں 123 مسافر اور 22 عملے کے ارکان سوار تھے۔ دورانِ پرواز فلسطینی تنظیم اور "جاپانی ریڈ آرمی" کے ارکان نے جہاز کو ہائی جیک کر لیا۔ ہائی جیکرز کا مطالبہ تھا کہ اسرائیل میں قید جاپانی ریڈ آرمی کے رکن ’کوزو اوکاموتو‘(Kozo Okamoto) کو رہا کیا جائے۔
جب کئی ممالک نے جہاز کو اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تو دبئی نے یہ ذمہ داری قبول کی۔ یوں ہائی جیک شدہ جہاز دبئی ایئرپورٹ پر اترا۔

ہائی جیکرز نے شیخ محمد کو دھمکی دی کہ اگر ان کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو وہ ہر گھنٹے ایک یرغمالی کو قتل کر دیں گے۔ اس دوران ایک خاتون ہائی جیکر سے دستی بم اچانک پھٹ گیا جس میں وہ ہلاک ہو گئی اور مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایسے نازک موقع پر شیخ محمد نے ہائی جیکرز سے براہِ راست بات کی۔ عینی شاہدین کے مطابق وہ نہایت پُرسکون اور سمجھداری کے ساتھ فیصلے کر رہے تھے۔ ماہرین کے بقول انہوں نے نفسیاتی اور عملی حکمتِ عملی دونوں استعمال کیں اور یرغمالیوں کو نقصان پہنچنے سے بچایا، اس بہادری اور دانشمندی کی بدولت 140 افراد کی زندگیاں بچ گئیں۔

جاپانی محقق ڈاکٹر ناؤنوری کُساکابے کے مطابق’’ اس وقت مسافروں کے لیے شیخ محمد ہی ان کی آخری امید اور نجات دہندہ تھے۔‘‘
ہائی جیکرز کی سخت دھمکیوں کے باوجود شیخ محمد نے غیر معمولی صبر اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے خود کو "امارات کے صدر اور عوام کی نمائندگی" کے طور پر پیش کیا اور انسانی ہمدردی کے ناتے یرغمالیوں کی رہائی کی اپیل کی۔
انہوں نے جہاز کو ایندھن دلوا کر ایئرکنڈیشنز چلانے کا انتظام کیا تاکہ مسافروں کو تکلیف نہ ہو، اور سب کے لیے کھانے پینے کا بندوبست بھی کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے ایئرپورٹ پر ہیلی کاپٹروں کی پروازیں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت بڑھا دی تاکہ ہائی جیکرز غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں۔
قیدیوں کی رہائی اور 80 گھنٹے کا صبر
شیخ محمد کی مسلسل بات چیت اور حکمت عملی کے نتیجے میں کچھ یرغمالیوں کو رہا کیا گیا۔ 80 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد انہوں نے ہائی جیکرز کو واضح کر دیا کہ دبئی میں ان کے لیے کوئی حل نہیں نکلے گا، آخرکار ہائی جیکرز مان گئے اور طیارے کو لیبیا کے شہر بن غازی لے جانے پر راضی ہوئے، طیارے کے روانہ ہونے سے پہلے شیخ محمد نے انجینئرز سے جہاز کی جانچ بھی کرائی تاکہ مسافروں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

23 جولائی 1973 کو بن غازی پہنچنے کے بعد تمام مسافر اور عملہ بحفاظت رہا کر دیے گئے۔ صرف چند منٹ بعد ہائی جیکرز نے جہاز میں رکھا ہوا بارودی مواد دھماکے سے اڑا دیا، لیکن اس وقت تک تمام لوگ محفوظ باہر نکل چکے تھے۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اُس دور کا ایک "مثالی ہائی جیک بحران" تھا جس میں کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ لیکن شیخ محمد کی قیادت اور ان کے اندازِ گفت و شنید نے بعد میں دنیا بھر میں یرغمال مذاکرات کے طریقے متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
