ویب ڈیسک: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی بہن علیمہ خان نے واضح کیا ہے کہ بیرسٹر سلمان اکرم راجہ سے ان کی کسی قسم کی تلخ کلامی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ ہمارے وکیل ہیں اور خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ اگر سلمان اکرم راجہ نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کی ہے تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہوسکتا ہے، تاہم اس حوالے سے بہتر جواب وہ خود دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم ہمیشہ سے ہماری قانونی ٹیم کا حصہ رہے ہیں اور ان کے ساتھ خاندانی تعلقات بھی ہیں۔
علیمہ خان نے اپنے بیٹوں کی گرفتاری پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آتا میرے بچوں کو کیوں اٹھایا گیا۔ ’’شاہ ریز خان کاروبار کرتا ہے اور پاکستان کی نمائندگی کھیلوں میں بھی کر چکا ہے، شیر شاہ کو بھی اگلے دن گرفتار کرلیا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان گرفتاریوں سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر حکومت چاہے تو مجھے بھی گرفتار کر لے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا پیغام اگر فیملی کے ذریعے آتا ہے تو وہ دراصل ان ہی کا موقف ہوتا ہے۔
اس موقع پر عمران خان کی ایک اور ہمشیرہ عظمیٰ خان نے بھی میڈیا سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات کے معاملے پر پارٹی قیادت واضح کرے گی۔ ان کے مطابق جیل میں ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی نے ہدایت کی تھی کہ ضمنی الیکشن نہیں لڑنا کیونکہ اس سے پارٹی کو نقصان پہنچے گا اور ناجائز نااہلیوں کو جواز مل جائے گا۔
عظمیٰ خان نے مزید کہا کہ عمران خان نے پارٹی کو واضح پیغام دیا ہے کہ الیکشن کے بجائے تحریک پر توجہ دی جائے کیونکہ حکومت مرضی کے نتائج چاہتی ہے اور کسی صورت ہمیں جیتنے نہیں دے گی۔