(ویب ڈیسک ) پمز اسپتال میں بچ جانیوالی بچی کی خالہ نے بچی کو بچائے جانےکا دعویٰ جھوٹا قرار دیدیا۔ بچی کی خالہ کا کہنا ہے کہ آگ لگی تو میں نے خود جا کر بچی کو اٹھایا وہاں کوئی نہیں تھا، میں بچی اور اس کی والدہ کو نکال کر پولی کلینک اسپتال لے آئی۔
وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے اسپتال 'پمز' کا شعبہ اطفال، جو نئی زندگیوں کے جنم لینے اور خوشیوں کی نوید سنانے کی جگہ تھی، چند لمحوں میں ایک ایسی دردناک بھٹی میں بدل گیا جہاں 14 معصوم، نومولود کلیاں شعلوں کی نذر ہو گئیں۔تاہم معجزاتی طور پر ایک ننھی پری زندہ بچ گئی۔
بچی کی خالہ نے اس قیامت خیز منظر کو بتاتے ہوئے کہا کہ”وارڈ سے چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں، عملے کی ایک فی میل ڈاکٹر بھاگتی ہوئی آئی اور بولی 'کسی مرد کو بلاؤ آگ لگ گئی ہے!'۔ میں نے جب سنا تو میں بھاگ کر اندر گئی اور اپنی بچی کو اٹھا لیا ، بچی کو بچاتے ہوئے میرے بال اور کندھے پر آگ لگی تھی۔ اس دوران اندر سے ایک میل ڈاکٹر بھی اپنا سر بچائے باہر بھاگ رہا تھا۔
پمز اسپتال میں بچ جانیوالی بچی کی خالہ نے بچی کو بچائے جانےکا دعویٰ جھوٹا قرار دیدیا، آگ لگی تو میں نے خود جا کر بچی کو اٹھایا وہاں کوئی نہیں تھا، میں بچی اور اس کی والدہ کو نکال کر پولی کلینک اسپتال لے آئی #PublicNews #PublicUpdates pic.twitter.com/eOqegD9Rkh
— Public News (@PublicNews_Com) August 26, 2026
بچی کی خالہ نے بتایا کہ میں نے اپنی بچی اور اسکی والدہ کو وہاں سے نکلل کر پولی کلینک اسپتال آگئی کیونکہ میری بھانجی کو سانس کا مسئلہ ہو رہا تھا۔وہ کہہ رہے کہ نرس یا ڈاکٹر نے بچی کو بچایا وہاں کوئی موجود ہی نہیں تھا ، میں نے خود اپنی بچی کو بچایا۔