ویب ڈیسک: اسلام آباد کے اسکولوں اور کالجوں میں آئندہ تعلیمی سال سے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو باقاعدہ مضمون کے طور پر شامل کیا جائے گا، جو اپریل سے شروع ہونے والے نئے تعلیمی سیشن میں نافذ ہوگا۔
نیشنل کریکولم کونسل کے مطابق کلاس ششم تا ہشتم کے طلبہ کو کمپیوٹر سائنس یا مصنوعی ذہانت میں سے کسی ایک مضمون کا انتخاب کرنے کا اختیار دیا جائے گا، جبکہ کلاس نہم سے سیکنڈایئر تک کے طلبہ مصنوعی ذہانت کو الیکٹو (اختیاری) مضمون کے طور پر پڑھ سکیں گے۔
نرسری سے کلاس پنجم تک کے طلبہ اس مضمون کو غیر کریڈٹ کورس کے طور پر پڑھیں گے۔
تعلیم کے وفاقی وزارت کے مطابق نیشنل کریکولم کونسل نے صوبوں سے مشاورت کے بعد گریڈ ایک سے بارہ تک کے لیے Artificial Intelligence and Robotics کا نصاب حتمی کر کے نوٹیفائی کر دیا ہے۔
نصاب کا مقصد طلبہ میں کمپیوٹیشنل سوچ، ذہین نظام (Intelligent Systems)، روبوٹکس، ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔
حکام نے بتایا کہ یہ نیا نصاب اسلام آباد میں اپریل سے نافذ کیا جائے گا، جبکہ صوبے خود فیصلہ کریں گے کہ وہ اسے اپناتے ہیں یا نہیں۔ علاوہ ازیں، فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (FBISE) بھی اپنی امتحانی نظام میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرے گا۔