(ویب ڈیسک ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے روزہ رسول ﷺ پر حاضری کے لئے پارلیمانی وفد سرکاری خرچ پر بھجوانے کی تجویز دی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا قائم مقام چیئرمین شگفتہ جمانی کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔کمیٹی نے وفاقی وزیر مذہبی امور سے حج کوٹہ مانگ لیا۔
شگفتہ جمانی نے کہا کہ ہر ممبر پارلیمنٹ کو دس،دس افراد کے لیے حج کوٹہ دیا جائے۔ہر ممبر دس نام لیٹر ہیڈ پر وزارت کو بھجوائے۔ہر کمیٹی ممبر کو لوگوں کو حج پر بھجوانے کی اجازت ہونی چاہیے۔اس طرح ممبر خوش ہو جائیں گے اور ہمیں ثواب بھی ملے گا،اسے حج کوٹہ کا نام نہ دیا جائے۔
کمیٹی ممبران کی جانب سے حج کوٹہ کی تائید کی گئی۔
مذہبی امور کمیٹی نے تجویز دی کہ روزہ رسول ﷺ پر حاضری کے لئے پارلیمانی وفد سرکاری خرچ پر بھجوایا جائے۔پارلیمانی وفد پاکستانی عوام کی طرف سے روزہ رسولﷺ پر سلام کرے گا۔ وفد پہلے بھی پاکستانی عوام کی طرف سے سلام کرنے جاچکا۔پارلیمانی وفد ہر برس مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ جائے گا۔ وفد میں شامل ارکان کے اہل خانہ بھی ہمراہ جاسکیں گے۔ عوام کی طرف سے وفد مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کرے گا۔
کمیٹی چیئرپرسن شگفتہ جمانی نے کہا کہ اس پارلیمانی وفد کے اخراجات قومی اسمبلی اٹھائے۔اگر ہم خرچ خود اٹھاتے ہیں تو اسے ڈیلی گیشن کا نام نہیں دے سکتے۔خود تو کبھی بھی جاسکتے ہیں۔
کمیٹی ارکان نے حمایت کی کہ ہم چاہتے ہیں کہ قومی اسمبلی یہ خرچ اٹھائے۔کمیٹی نے سفارش کی کہ پاکستان ہاؤس کی سعودی عرب میں تعمیر تک وفد کو سرکاری خرچ پرہوٹل میں ٹھہرایا جائے۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ وفد کو اسٹیٹ گیسٹ ڈکلیئر کرنے کیلئے دفتر خارجہ کے نمائندے کو بلایا جائے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ وزارت مذہبی امور وفد کو ممکنہ سہولیات فراہم کرے گی۔مکہ و مدینہ منورہ میں میڈیکل اور دیگر سہولیات کا اہتمام ہوگا۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ وفد کیلئے لائیزن افسر بھی تعینات کیا جائے گا۔مسجد نبوی ﷺ میں وفد نوافل ادا کرے گا،زیارت، آداب بارگاہ نبوی اور عمرہ طریقہ کار پر وفد کی رہنمائی کی جائے گی۔
وزیر مذہبی امور کی جانب سے کمیٹی تجاویز کی حمایت کی گئی۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارت مذہبی امور دورے کی بھرپور میڈیا کوریج کرے ۔اہلِ خانہ سرکاری وفد میں ساتھ لانے پر اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔پاکستان ہاؤس کی تعمیر تک ہوٹل میں رہائش کا انتظام کیا جائے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ اسپیکر کے نام وفاقی وزیر مذہبی امور خط لکھیں۔خط میں اسپیکر سے وفد کے تمام اخراجات اٹھانے کی درخواست کی جائے۔
وفاقی وزیر سردار یوسف نے کہا کہ قومی اسمبلی وفد کا اہتمام کرے اور اس کے لئے وزارت مذہبی امور پر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔ وفد کا جانا اعزاز کی بات ہے ۔ وفد کے سرکاری خرچ پر جانےمیں کیا حرج ہے۔ وفد قوم کی طرف سے سلام کرنے جائے گا۔روزہ رسول پر وفد درود و سلام پیش کرے۔