ویب ڈیسک: پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز (EVs) اور پلگ ان ہائبریڈ گاڑیوں کی صنعت نے نئی جہت اختیار کر لی ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی معاونت سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی EV مارکیٹ کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق چینی آٹو جائنٹ BYD پاکستان میں اگست 2025 سے سالانہ 25,000 یونٹس کی صلاحیت کے ساتھ گاڑیوں کی اسمبلنگ شروع کرے گا، جبکہ 2026 سے مکمل پیداوار کا آغاز متوقع ہے۔یہ انکشاف رائٹرز کی ایک تازہ رپورٹ میں کیا گیا، جس کے مطابق BYD پاکستان میں سبز توانائی کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ایک بڑی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، آنے والے سالوں میں پاکستان کی EV مارکیٹ میں تین گنا اضافہ متوقع ہے، جبکہ BYD کا ہدف ہے کہ وہ اس مارکیٹ کا 35 فیصد تک شیئر حاصل کرے۔ پاکستان میں حب پاور اور میگا موٹر کے درمیان شراکت داری نے مقامی EV مینوفیکچرنگ کے لیے راہ ہموار کر دی ہے۔ یہ پارٹنرشپ نہ صرف جدید پیداواری انفراسٹرکچر قائم کرے گی بلکہ روزگار اور برآمدات کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔
پاکستانی حکومت نے ای وی چارجرز کے پاور ٹیرف میں 45 فیصد کمی کر کے نہ صرف گاڑیوں کی اپٹیک کو فروغ دیا ہے بلکہ مقامی سطح پر EV استعمال کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ BYD کا ہدف نہ صرف پاکستانی مارکیٹ میں قیادت حاصل کرنا ہے بلکہ پاکستان سے دیگر ممالک کو الیکٹرک اور ہائبریڈ گاڑیوں کی برآمدات بھی بڑھانا ہے۔ اس منصوبے سے پاکستان کو آٹو انڈسٹری میں برآمدی مرکز بنانے کا موقع حاصل ہوگا۔
SIFC کی فعال حکمت عملی اور پالیسی اقدامات نے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ، شفاف اور مؤثر ماحول پیدا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی کمپنیاں جیسے BYD، پاکستان میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے پرجوش ہیں۔