41 سال قید کے بعد فلسطین حامی لبنانی جنگجو جارج ابراہیم عبداللہ وطن واپس پہنچ گئے

41 سال قید کے بعد فلسطین حامی لبنانی جنگجو جارج ابراہیم عبداللہ وطن واپس پہنچ گئے

(ویب ڈیسک ) فرانس میں 41 سال قید کاٹنے والے فلسطین کے حامی لبنانی جنگجو جارج ابراہیم عبداللہ جمعہ کے روز رہائی کے بعد لبنان پہنچ گئے۔ وہ 1980 کی دہائی میں دو غیر ملکی سفارتکاروں کے قتل کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق، 74 سالہ جارج عبداللہ کو جنوبی مغربی فرانس کی لانیمازان جیل سے صبح سویرے ایک قافلے کے ذریعے لے جایا گیا اور بعد ازاں ایک پرواز کے ذریعے بیروت منتقل کیا گیا۔ بیروت ایئرپورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں ان کے اہلِ خانہ نے ان کا استقبال کیا۔

ان کے آبائی گاؤں کوبیات میں لوگوں کی بڑی تعداد، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے، اپنے "ہیرو" کے استقبال کے لیے جمع ہوئی۔

 شمالی لبنان کے علاقے سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمنٹ جمی جبرور نے کہا، "ہم ان کے نظریات سے اتفاق کریں یا نہ کریں، لیکن ان کے حوصلے اور استقامت کو ضرور سلام پیش کرتے ہیں۔"

68 سالہ مقامی خاتون کلاڈیٹ تانوس نے کہا، "پورا گاؤں خوش ہے کہ وہ واپس آگئے، کوئی اور41 سال جیل میں  ہوتا تو شاید پاگل ہو جاتا۔"

اس سے قبل بیروت ایئرپورٹ کے باہر درجنوں حامی، جن میں کچھ فلسطینی اور لبنانی کمیونسٹ پارٹی کے کارکن بھی شامل تھے، جارج عبداللہ کے استقبال کے لیے موجود تھے، جہاں ان کا پرتپاک اور ہیرو جیسا خیرمقدم کیا گیا۔

رہائی کے بعد جارج ابراہیم عبداللہ کا پہلا خطاب، اسرائیلی بمباری اور عرب دنیا کی خاموشی پر کڑی تنقید

فلسطین نواز لبنانی جنگجو جارج ابراہیم عبداللہ نے رہائی کے بعد اپنے پہلے عوامی خطاب میں غزہ پر اسرائیلی بمباری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں قحط کے خطرے سے مسلسل خبردار کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ " فلسطین کے معصوم بچے بھوک سے مر رہے ہیں، جب کہ عرب دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔"

سابق استاد اور مزاحمتی نظریات کے حامل جارج عبداللہ نے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ فلسطینی مزاحمت کو جاری رکھنا ناگزیر ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسے مزید تیز کیا جائے۔

واضح رہے کہ جارج عبداللہ کو 1984 میں گرفتار کیا گیا تھا اور 1987 میں امریکی فوجی اتاشی چارلس رابرٹ رے اور اسرائیلی سفارتکار یعقوب بارسیمانٹوف کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

Watch Live Public News