بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ: کسانوں کے خدشات پر بھارتی حکومت کی یقین دہانیاں

بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ: کسانوں کے خدشات پر بھارتی حکومت کی یقین دہانیاں
کیپشن: پاک امریکہ تجارتی معاہدہ: کسانوں کے خدشات پر بھارتی حکومت کی یقین دہانیاں

ویب ڈیسک: بھارتی حکومت (وزارتِ تجارت) نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے پر بھارتی کسانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے مختلف ریاستوں (خصوصاً ہریانہ) کو باقاعدہ یقین دہانیاں کرائی ہیں۔

 اہم نکات
امریکہ کے لیے بھارت کی زرعی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے خصوصی ٹیرف رعایتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ بھارت میں ملکی طلب پیداوار سے تجاوز کرنے کی صورت میں ہی مخصوص کوٹہ سسٹم اور محدود رعایت کی اجازت ہوگی۔   حکومتی مہم کے باوجود بھارتی کسانوں میں بھارت اور امریکہ کے اس تجارتی معاہدے کے خلاف شدید خدشات برقرار ہیں۔ مودی حکومت بھارتی کسان یونینوں کو اعتماد میں لیے بغیر بڑے امریکی تجارتی معاہدے کو تیز رفتاری سے نافذ کر کے بھارت میں 2020 کی غلطی دہرا رہی ہے۔  نیا تجارتی ڈھانچہ بھارت کے چھوٹے اور کمزور کسانوں کو بین الاقوامی مارکیٹ کے کریش اور اتار چڑھاؤ کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گا۔
 بھارت میں امریکی باداموں اور پھلوں پر درآمدی ٹیکس کم کرنے سے مقامی غریب کسانوں کا بھاری سبسڈیز یافتہ امریکی کارپوریٹ زراعت سے نبردآزما ہونا ناگزیر ہے۔ بھارت میں غیر ملکی مکے اور جوار پر ٹیرف میں کٹوتی ایک چور دروازہ بنے گی جو بھارتی فصلوں کی قیمتیں گرا کر کسان کو برباد کر دے گی۔
پھلوں پر ڈیوٹی کی کٹوتی سے مقبوضہ کشمیر اور ہماچل پردیش کے موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ بھارتی کسان سستی درآمدات کے سامنے بے دفاع ہو جائیں گے۔ سستی امریکی زرعی مصنوعات کی مارکیٹ میں بھرمار سے بھارت کے پولٹری جیسے منسلک شعبوں کو براہِ راست شدید خطرات کا سامنا ہوگا۔
امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بھارت نے ڈبلیو ٹی او ( (WTOمیں مغربی زرعی قوانین کے خلاف ترقی پذیر ممالک کی قیادت کا اپنا تاریخی کردار چھوڑ دیا۔  زراعت پر انحصار کرنے والی 45 فیصد بھارتی آبادی سے تجارتی تفصیلات چھپانا بھارتی کسانوں کے بنیادی جمہوری حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

Watch Live Public News