امن کی خاطر بھارت سے بات چیت کےلیے تیار ہیں ، وزیراعظم

امن کی خاطر بھارت سے بات چیت کےلیے تیار ہیں ، وزیراعظم

ویب ڈیسک:تہران میں وزیراعظم شہبازشریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی مشترکہ نیوز کانفرنس،پاکستان کا ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی حمایت کا اعلان، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا پانی کے مسئلے، انسداد دہشتگری کے معاملے پر بھارت کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں،جارحیت ہوگی تو ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے۔
وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ برادر ملک ایران ہمارا دوسرا گھرہے، پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مزید مستحکم بنائیں گے،ایران میں پرتپاک استقبال پر ایرانی حکومت اور قوم کا شکر گزار ہوں، برادر ملک ایران کا دورہ کرکے دلی خوشی ہوئی، ایرانی صدر کے ساتھ تعمیر اور مفید بات چیت ہوئی، ایرانی صدر سے دو طرفہ ملاقات کے تمام پہلووں پر بات چیت ہوئی،تجارت سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق ہوا ، پاکستان نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے گہرے تاریخی مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں،مسعود پزشکیان نے ٹیلی فون کرکے خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ، مسعود پزشکیان کے پاکستانی عوام کے لیے جذبات پر مشکور ہوں۔

وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ امن کی خاطر بھارت سے بات چیت کے ،لیے تیار ہیں، جارحیت ہوگی تو ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے، پانی کے مسئلے، انسداد دہشتگری کے معاملے پر بات چیت کے لئے تیار ہیں، بھارت کو انسداد دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے کی پیشکش کرتے ہیں،پاکستان پرامن ملک ہے اور خطے میں امن وسلامتی چاہتا ہے۔

 ہماری بہادر مسلح افواج نے دلیرانہ کارروائی کی،عوام کی طاقت سے کامیابی حاصل کی ،پاکستان پرامن مقاصد کے لیے ایران کے سول جوہری پروگرام کی حمایت کرتا ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے ایران میں کشمیر کا مقدمہ اٹھادیا، کہا کہ مسلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات بات جیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں ،پاکستان کو غزہ میں بدترین مظالم پر تشویش ہے، غزہ میں 50 ہزار سے زائد نہتے انسان قتل کیے جاچکے۔

اس موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ پاکستان برادر ہمسایہ ملک ہے ، وزیراعظم شہباز شریف کی آمد کا خیر مقدم کرتے ہیں ، دونوں ملکوں کے دیائیوں پر محیط ، ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں، او آئی سی کے پلیٹ فارم پر دونوں ملکوں کا موقف یکساں ہے۔

سیاست ، معشیت ، بین الاقوامی تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی ،سرحدی علاقوں میں انسداد دہشت گردی سے متعلق قریبی تعاون ضروری ہے ،پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہیں ،خطے کی ترقی اور خوشحال امن سے ہی ممکن ہے ، ایران اور پاکستان فلسطین کاز کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

  ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ فلسطین میں ہونے والی نسل کشی پر عالمی برداری کی خاموشی سوالیہ نشان ہے ، وزیراعظم شبہاز شریف کے دورہ ایران کے حوصلہ افزاہ نتائج کے لیے پرامید ہوں۔

Watch Live Public News