کل مقبوضہ کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں کشمیر پر بھارتی قبضے کیخلاف یوم سیاہ منایا جائے گا

کل مقبوضہ کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں کشمیر پر بھارتی قبضے کیخلاف یوم سیاہ منایا جائے گا

(ویب ڈیسک ) حکومت نے ملک بھر اور آزاد جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے کل پیر کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی غیر قانونی قبضے کے خلاف احتجاج کیا جا سکے۔

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر اس سلسلے میں ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق کل پیر کو صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔

ہر سال دنیا بھر میں اور لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کے کشمیری 27 اکتوبر کو ’’ یوم سیاہ‘‘ کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جب 1947 میں بھارتی فوجیوں نے سری نگر میں اتر کر جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا تھا۔

یہ دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو آج تک ان کا حقِ خودارادیت نہیں دیا گیااور ان سے کیے گئے وعدے اب تک پورے نہیں ہوئے۔ پاکستان اور کشمیری قیادت نے اس اقدام کو مسترد کر دیا، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ یہ فیصلہ دباؤ کے تحت کیا گیا تھا اور کشمیری عوام کی امنگوں کی ترجمانی نہیں کرتا تھا۔

یہ واقعہ پہلی پاک۔بھارت جنگ کا سبب بنا جس کے نتیجے میں کشمیر خطہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ذریعے تقسیم ہو گیا ایک ایسی لکیر جو آج بھی خاندانوں اور برادریوں کو جدا کرتی ہے۔پورے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں یہ دن ریلیوں، سیمینارز، واکس اور فوٹو نمائشوں کے ذریعے منایا جاتا ہےجن کا مقصد کشمیری عوام کی مشکلات کو اجاگر کرنا اور ان کی جدوجہد سے اظہارِ یکجہتی کرنا ہوتا ہے۔شرکاء سیاہ پٹیاں باندھتے ہیں سیاہ جھنڈے لہراتے ہیں اور عوامی اجتماعات منعقد کرتے ہیں تاکہ بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قبضے اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی مذمت کی جا سکے۔

کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر حکومتِ پاکستان کی ہدایت پر پورے ملک میں صبح 10بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بین الاقوامی انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے جبری گمشدگیوں، کرفیو، رابطوں کی بندش اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں نقل و حرکت پر پابندیوں جیسے مسائل کی جانب توجہ دلائی ۔

Watch Live Public News