ویب ڈیسک: پنجاب کے سرکاری اور نجی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں داخلوں کے لیے نئی ایڈمیشن پالیسی کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت لاہور میں ہونے والے خصوصی اجلاس میں محکمہ صحت سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے، جن میں داخلہ پالیسی کے ساتھ ساتھ اسپتالوں کی بہتری اور مریضوں کے علاج کے حوالے سے بھی اقدامات طے پائے۔
نئی پالیسی کے مطابق سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پاس کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کے لیے ایم ڈی کیٹ میں 10 ہزار ڈالر فیس مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے امیدواروں کو میرٹ لسٹ میں نام آنے کے بعد یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) میں ایک تہائی فیس جمع کروانی ہوگی، جسے بعد میں متعلقہ کالج کو ٹرانسفر کیا جائے گا۔ حتمی میرٹ لسٹ کے اعلان کے بعد باقی فیس براہِ راست متعلقہ کالج میں جمع کرانا ہوگی۔
اجلاس میں پرائیویٹ اسپتالوں میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کے بعد لازمی سروس کی تجویز پر بھی اتفاق کیا گیا۔ طے پایا کہ اسپیشلسٹ کی ضرورت کے مطابق ٹرینی ڈاکٹروں کو پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے متعلقہ شعبوں میں سپیشلائزیشن کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے ساہیوال میں پہلی کامیاب انجیو پلاسٹی اور کارڈیک سرجری کے آغاز پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے میو اسپتال کو ابلیشن سینٹر میں مریضوں کے علاج کے لیے شفاف اور فول پروف نظام وضع کرنے کی ہدایت دی اور کینسر کے مریضوں کو ہر ممکن ریلیف دینے پر زور دیا۔
مزید برآں، صوبے میں نئے میڈیکل کالجز کی الگ عمارتیں بنانے کے بجائے سرکاری یونیورسٹیوں میں میڈیکل بلاکس قائم کرنے کی تجویز بھی منظور کر لی گئی۔ مریم نواز نے اعلان کیا کہ پنجاب کے ہر اسپتال میں غریب مریضوں کو مفت علاج کی سہولت یقینی بنائی جائے گی اور کینسر کے مریضوں کا علاج ہر حال میں ممکن بنایا جائے گا۔ انہوں نے نواز شریف میڈیکل سٹی کے قیام کے لیے فوری اقدامات کی بھی ہدایت دی۔