(ویب ڈیسک )وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ جیت لی ہے، اب ہم امن جیتنے کے خواہشمند ہیں۔پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور پر جامع ، نتیجہ خیز مذاکرات کیلئےتیار ہے۔جنوبی ایشیا کے خطے کو اشتعال انگیز نہیں فعال قیادت کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کیا۔انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پچیدہ ہے۔دنیا پھر میں تنازعات شدت اختدیار کر ہے ہیں ۔عالمی قوانین کی کھلم کھلی خلاف ورزی جاری ہے۔انسانی بحران بڑھتے جا رہے ہیں ۔دہشتگردی دنیا کیلئے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، گمراہ کن پروپیگنڈا اور جعلی خبروں نے اعتماد کو متزلزل کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ۔ہماری خارجہ پالیسی بابائے قوم کے ویژن کی رہنمائی میں پرامن بقائے باہمی پر مبنی ہے۔ہم مکالنے اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پر امن حل پر یقین رکھتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ سال اسی پلیٹ فارم سے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت پر فیصلہ کن اقدام کرے گا۔۔یہ الفاظ سچ ثابت ہوئے جب مئی میں پاکستان کو مشرقی محاذ سے جارحیت کا سامنا کرنا پڑا ۔غرور میں مبتلا دشمن کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔بھارت نے پہلگام واقعہ کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا۔بھارت نے انسانی المیے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بھارت نے شہری علاقوں پر حملہ کر کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔بھارت کی جانب سے سرحدوں کی سالمیت اور قومی سلامتی کی خلاف ورزی کی گئی۔پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا حق دفاع استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں جرات کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کی قیادت میں شاہینوں نے دشمن کو پنی مہارت سے زیر کیا۔بھارت کے 7 جنگی طیاروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن جواب تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔پاکستان کے عظیم جانبازوں ، شہداء کے ورثاء کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ہمارے شہداء کے نام ہمیشہ عزت اور وقار کے ساتھ زندہ رہیں گے۔بھارت کے خلاف ہر پاکستانی سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ طاقت میں برتری کے باوجود پاکستان نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔جنگ بندی صدر ٹرمپ کی بصیرت افروز قیادت کی بدولت ممکن ہوئی۔جنوبی ایشیا میں تباہ کن جنگ روکنے میں فعال کردار پر صدر ٹرمپ اور انکی ٹیم کے مشکور ہیں۔صدر ٹرمپ بروقت اور فیصلہ کن مداخلت نہ کرتے تو نتائج ہولناک ہوسکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ جیت لی ہے، اب ہم امن جیتنے کے خواہشمند ہیں ۔پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور پر جامع ، نتیجہ خیز مذاکرات کیلئےتیار ہے۔جنوبی ایشیا کے خطے کو اشتعال انگیز نہیں فعال قیادت کی ضرورت ہے۔سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کی یکطرفہ ، غیر قانونی کوشش قابل مذمت ہے۔ایسا کر کے بھارت عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی لائف لائن ، اپنے حق کا بھرپور دفاع کریں گے۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جنگ کے مترادف ہے۔جموں و کشمیر کا تنازع دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان خطرناک فلیش پوائنٹ ہے۔وہ دن دور نہیں جب بھارتی ظلم و ستم کا دور ختم ہوگا اور کشمیریوں کو ان کا حق ملے گا۔
وزیر اعظم نے خطاب میں کہا کہ فلسطین کے عوام کی حالت زار ہمارے دور کے دلخراش سانحے میں سے ایک ہے۔غزہ کی صورتحال عالمی ضمیر پر بدنما داغ اور اجتماعی اخلاقی ناکامی ہے۔8 دہائیوں سے فلسطینی عوام جرات کے ساتھ اپنے وطن کا دفاع کر رہے ہیں ۔مغربی کنارے میں ہر گزرتا دن ایک نئی بربریت لا رہا ہے۔وہاں غیر قانونی آبادکار دہشت پھیلانے اور قتل و غارت میں ملوث ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم نے خواتین اور بچوں پر ناقابل بیان خوف مسلط کیا ہے۔اسرائیل کی فلسطین میں بربریت تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔اسرائیلی بمباری میں اپنی جان بچانے والی ننھی ہندرجب کی آواز آج بھی کانوں میں گونجتی ہے۔کیا یہ کوئی تصور کر سکتا ہے کہ بچی پر بھی کوئی رحم نہ کرے؟انسانیت کا یہ المیہ ہے کہ وہ ننھی ہند رجب کو بچانے میں ناکام ہوئی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ معصوم بچے کا ننھا تابوت اٹھانا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔بھارتی جارحیت کا نشانہ بننے والے 7 سالہ ارتضیٰ عباسی کا تابوت اٹھانے سے تکلیف ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں غزہ میں ہر صورت جنگ بندی کا راستہ نکالنا ہوگا۔پاکستان خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔1967 سے پہلے کی سرحدوں کے تحت خودمختار فلسطینی ریاست چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔فلسطین مزید اسرائیلی زنجیروں میں نہیں رہ سکتا، اسے آزاد ہونا ہوگا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ دوحہ پر اسرائیل کا حملہ قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔پاکستان قطر کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے کہاکہ یوکرین تنازع کے پر امن حل کیلئے کوششوں کی حمایت کرتے ہیں ۔
انکا کہنا تھا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔اس جنگ میں پاکستانی معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔آج بھی پاکستان کو بیرونی سرپرستی میں دہشتگردی کی نئی لہر کا سامنا ہے۔کالعدم ٹی ٹی پی ، فنتہ الخوارج،فتنہ الہند، بی ایل اے ، مجید بریگیڈ افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں ۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کا بہادری سے مقالبہ کر رہین ہیں۔آخری دہشتگرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔افغان عبوری حکومت کو دہشتگرد گروہوں کے خلاف موثر اقدامات کرنا ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ نفرت پر مبنی نظریات، ہندوتوا سوچ دنیا کیلئے خطرہ ہے۔دنیا کو اسلاموفوبیا کی وجہ سے پائے جانے والے خطرات کا ادراک ہے۔