میرےخاندان میں سے جسےمرضی قید کرلو،ظلم کے آگے نہیں جھکوں گا،عمران خان

میرےخاندان میں سے جسےمرضی قید کرلو،ظلم کے آگے نہیں جھکوں گا،عمران خان
کیپشن: میرےخاندان میں سے جسےمرضی قید کرلو،ظلم کے آگے نہیں جھکوں گا،عمران خان

ویب ڈیسک: بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں ہونے والی گفتگو میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ بیان میں عمران خان کی اڈیالہ جیل میں کی جانے والی گفتگو کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-

انہوں نے الزام عائد کیا کہ فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔ عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔

ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔

ٹوئٹ کے دوسرے حصے میں انہوں نے لکھاکہ علی امین گنڈا پور کو سپریم کورٹ جا کر مجھ سے ملاقات کی اجازت مانگنی چاہیئے۔ اس سے پہلے بجٹ پر بھی مجھ سے مشاورت و ملاقات نہیں کی گئی۔ علی امین کو آ کر مجھے صوبے کی گورننس، امن و امان اور دیگر اہم امور پر بریفنگ دینی ہے جس کے لیے سپریم کورٹ سمیت ہر فورم پر بھرپور کوشش کرنی چاہیے-

انہوں نے حکم دیا کہ میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق کی جانب سے اپنے ہی شہریوں پر ہونے والے ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں کے خلاف بھرپور سٹینڈ لے۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ہمارے دور میں امن آچکا تھا اور ہمارے دور میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔ اب وہاں حالات جان بوجھ کر خراب کیے جا رہے ہیں تاکہ واحد عوامی مینڈیٹ والی پارٹی کو کمزور کیا جا سکے۔ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے مسائل مقامی نمائندوں کی مدد سے بات چیت سے حل ہونے چاہئیں۔ ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنز سے دہشتگردی بڑھتی ہے۔ ان آپریشنز کو نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہے، نہ ہی عوامی نمائندوں کی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی تو ایسا آپریشن کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ افغان مہاجرین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس پر میں شرمندہ ہوں۔ وہ ہمارے مسلمان بھائی یہاں پناہ لیے ہوئے تھے انھیں ایسے دھکے مار کر ملک سے نکالنا اسلامی روایت اور انسانیت کے خلاف ہے-

فیصل آباد کی عدالت کی جانب سے ایک اور جھوٹے کیس میں ہمارے 75 ممبران اور کارکنان کو دی گئی سزائیں اس ظلم کے نظام کو مزید ننگا کر رہی ہیں۔ ہم سب کو اس ظلم کے خلاف اکٹھے کھڑے ہونا ہے جب ہم مل کر مقابلہ کریں گے تو فتح ہمارا مقدر بنے گی۔ میری رائے میں 9 مئی کیسز میں جھوٹے الزامات پر دی گئی سزاؤں کے ذریعے خالی کرائی گئی سیٹوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینا ان جھوٹی سزاؤں کو جائز تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا- اسی لیے پارٹی اس معاملے پر غور کر کے حتمی فیصلے کے لیے کل دوبارہ اپنی تجاویز میرے پاس لے کر آئیں-

حماد اظہر کا حلقہ میاں اظہر صاحب کی وفات کے بعد خالی ہوا ہے- اس سیٹ پر ہم الیکشن لڑیں گے۔ جو ظلم و فسطائیت اس وقت پورے ملک میں جاری ہے اس کے خلاف پشاور میں ایک گرینڈ جلسہ کیا جائے گا جس کی تاریخ کا اعلان پارٹی کرے گی۔

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے اور سینکڑوں قیمتی جانوں کے نقصان کے ساتھ لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ میں نے اسی ماحولیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے Billion Tree جیسے منصوبے شروع کیے تھے۔ اس طرح کے منصوبے ہی ہمارا ماحول بچا سکتے ہیں ورنہ ہم ہر سال تباہی ہی دیکھیں گے” - 

Watch Live Public News