ویب ڈیسک: پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ کیوں نہیں کہتے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو چھڑوانے کے لیے دباؤ ہے؟اگر دباؤ میں بانی کو چھوڑ بھی دیں تو لوگ یہی کہیں گے دباؤ میں چھوڑا گیا، عمران خان کو دباؤ پر چھوڑا تو قوم کھڑی ہوکر دکھائے گی،اداروں کے ترجمان قوم کو سچ بتا دیں وگرنہ قوم کا نقصان ہوگا، بھٹو کو پھانسی، نوازشریف کو تاحیات نااہل قید خانہ میں زہر دیا گیا سول نافرمانی کا اعلان نہیں کیا۔آج گھر کا بھیدی گھر کو پڑ گیا عالمی قوتوں کی خواہش کو بھی پورا کیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم کو جنرل فیض حمید کی گرفتاری کی وجہ بتانی چاہیے، انہیں ہاؤسنگ سوسائٹی کی وجہ سے گرفتار نہیں کیا گیا۔فیض حمید نے ادارے کے اندر بغاوت کی کوشش کی جو ناکام ہوئی، بغاوت کی ایسی سازش کسی اور ملک میں ہوتی تو اسے گولی سے اڑا دیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ دباؤ میں کچھ کیا گیا تو قوم کھڑی ہو کر دکھائے گی، بغاوت کرنے والے کو چھوڑنے اور سائیکل چور کو لٹکانے سے ریاستیں نہیں چلتیں، کارکنوں کو سزا اور ماسٹر مائنڈ کا کیس لٹکا دینے سے بات نہیں بنے گی۔پاکستان میں جب مارشل لاء لگتا ہے تو کسی کو جمہوریت یاد نہیں آتی، آج کے دن ایک قومی لیڈر شہید ہوئیں اس وقت کسی کو انسانی حقوق یاد نہیں آئے۔
ان کا کہنا ہے کہ آج لبنان، فلسطین، لیبیا اور شام کے بعد ایران پر نظریں لگی ہوئی ہیں، ہمیں خیرات میں زندگی نہیں چاہیے، ہمیں غیرت کی موت عزیز ہے۔ہمیں کوئی ڈکٹیشن دے گا تو ہم سب ایک نظر آئیں گے، ہم ایٹمی طاقت ہیں، عالمی قوتوں کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ڈالروں کے بدلے ہمیں کوئی بے غیرتی نہیں سکھا سکتا، سول نافرمانی 9، 10 مئی سے بڑا جرم ہے، آج وہ عالمی قوت کا منظور نظر کیوں ہے؟ عالمی قوتیں اس سے کیا کام لینا چاہتی ہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ آزادی اور غیرت سے بڑھ کر ہمیں کوئی چیز عزیز نہیں، ہم سیاسی محاذ پر تقسیم ہو جائیں گے، قومی غیرت پر تقسیم نہیں ہوں گے۔کسی صورت قبول نہ کریں گے آزادی پر ہاتھ ڈالے اور ڈکٹیٹ کرے فلاں کو چھوڑ دو فلاں کو پکڑ لو،بانی کو رہا کردو ون پوائنٹ ایجنڈا ہے حقیقت کیوں نہیں بتائی جاتی دباؤ ہے اس کو چھڑوانے کےلیے اس کے احسان کا بدلہ چکانا چاہتے ہیں۔
جاوید لطیف نے کہا کہ ایران پر نظریں ہیں چین کا عمل دخل ختم کرنا چاہتے ہیں ان کی ضرورت ہے،اگر ایٹمی میزائل بھارت کے پاس جس ہدف کےلئے ہے پاکستان کا حق ہے ہم بنائیں گے کسی صورت عالمی قوتوں کے دبائو میں نہیں آئیں گے،ہمیں اداروں سے شکایات پاکستان کے اندر ہیں اس پر بات کرتے رہیں گے لیکن بھٹو نے پھانسی پر بھی سول نافرمانی کی بات نہیں کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو تاحیات نااہل قید خانہ میں زہر دیا گیا سول نافرمانی کا اعلان نہیں کیا۔آج گھر کا بھیدی گھر کو پڑ گیا عالمی قوتوں کی خواہش کو بھی پورا کیا،غیرت کی زندگی سے موت کو گلے لگانا آتا ہے،ہمیں اس نہج پر نہ لگایا جائے پھر آواز نہیں عملاکچھ کرکے دکھا دیں،الیکشن ہوں گے تو اپنی پسندیدہ لیڈر شپ کے پیچھے کھڑے ہوں گے لیکن تقسیم نہیں ہوں گے،مذاکرات کی آڑ میں ہمیں بھاشن و دبائو ڈالا جا رہا ہے کیوں بانی کو رہا کیاجائے۔
جاوید لطیف نے کہا کہ اگر دباؤ میں بانی کو چھوڑ بھی دیں تو لوگ یہی کہیں گے دباؤ میں چھوڑا گیا،اداروں کے ترجمان قوم کو سچ بتا دیں وگرنہ قوم کا نقصان ہوگا،آج سیاست تو ہو رہی ہے اداروں میں کچھ افراد سہولت کاری کررہے ہیں،گڈ ٹو سی یو نہ کہا جاتا تو ملٹری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوتا ہے،سول کورٹ میں سول کا ٹرائل ہوگا تو گڈ ٹو سی یو والے اداروں میں انصاف کہاں سے لے گی۔
جاوید لطیف نے کہا کہ کیابانی دور میں ایک سو اسی لوگوں کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہوا تھا آج پھانسی کا پھندا نظر آنے پر کہتے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے،ورکروں کو تو سزا دیدیں اکسانے والے ماسٹر مائنڈ ہیں ان کے فیصلے نہ ہونے دیں دیسی مرغی دیدیں ملاقاتیں اور جم کے لئے سامان چاہئیے،عالمی جنگوں والے پیٹرول بم پھینکنے پر نظر نہیں آتے تھے،قوم کھڑی ہوئے تو 98تجربہ نوازشریف کرلیتا ہے قوم تقسیم ہوتو 71ء کا سانحہ ہوتا ہے،قوم ایک ہوگی تو معاشی کمزوری نہ ہوگی،آئینی ادارے مصلحت سے کام نہ لیں بتائیں دبایا کتنا ہے وہ بڑھ رہا ہے وجہ و پابندیوں کا ٹارگٹ کیا ہے،قوم روٹی سوکھی کھا لے گی اپنا دفاع کرکے دکھائے گی۔