ویب ڈیسک: (دانش منیر)سرکاری تعلیمی اداروں میں بڑے پیمانے پر گھپلے کا انکشاف، سرکاری یونیورسٹیوں ریذیڈنٹ آڈیٹر غیر قانونی رکھنے کا انکشاف سرکاری دستاویزات نے بھانڈا پھوڑ دیا ۔
سرکاری دستاویز کے مطابق پنجاب کے 42 اداروں میں غیر قانونی ریذیڈنٹ آڈیٹر رکھے گئے، پنجاب کی 33 سرکاری جامعات اور 9 بورڈز میں غیر قانونی ریذیڈنٹ آڈیٹر رکھ کر قانونی کی دھجیاں اڑائی گئیں،صوبائی دارالحکومت لاہور کی 7 بڑی جامعات میں غیر قانونی ریذیڈنٹ آڈیٹر رکھنے گئے۔
لاہور میں قائم پنجاب یونیورسٹی ، جی سی یونیورسٹی اور یونیورسٹی ہوم اکنامکس میں غیر قانونی ریذیڈنٹ آڈیٹر رکھے گئے، ایجوکیشن یونیورسٹی لاہور، یو ای ٹی، اور لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی لاہور میں غیر قانونی ریذیڈنٹ آڈیٹر رکھے گئے ۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ، غازی یونی ڈی جی خان، یونیورسٹی آف گجرات،وومن یونیورسٹی ملتان , یونیورسٹی آف کمالیہ ، یونیورسٹی آف جھنگ یونیورسٹی آف لیہ ،محمد نواز شریف یو ای ٹی ملتان ، بہاولدین زکریا ملتان ، بابا گرونانک سمیت دیگر میں غیر قانونی ریذیڈنٹ آڈیٹر رکھے گئے ۔
ریذیڈنٹ آڈیٹر یونیورسٹی کے تمام اخراجات کا حساب رکھتا ہے،تمام آڈیٹر، آڈٹ ڈیپارٹمنٹ سے ڈیپوٹیشن پر تعینات کرنا لازم ہے، 2022-2023 کی آڈٹ رپورٹ میں متعدد سرکاری تعلیمی اداروں میں غیر قانونی آڈیٹر رکھے گئے۔
محکمہ فنانس نے تعلیمی اداروں میں آڈیٹر تعینات کرتے وقت محکمہ آڈٹ کے قوانین کو نظر انداز کیا، صوبہ بھر میں تعلیمی اداروں میں غیر قانونی آڈیٹر رکھے گئے،محکمہ فنانس رپورٹ تیار ہونے تک کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔