غزہ پر پہلا حق فلسطینی عوام کا،نسل کشی قبول نہیں،عرب لیگ کی وارننگ

غزہ پر پہلا حق فلسطینی عوام کا،نسل کشی قبول نہیں،عرب لیگ کی وارننگ
کیپشن: غزہ پر پہلا حق فلسطینی عوام کا،نسل کشی قبول نہیں،عرب لیگ کی وارننگ

ویب ڈیسک : غزہ میں فلسطینی عوام رہیں گے ۔ عرب ممالک اکٹھا ہوگئے۔فلسطینیوں کی نسل کشی نہیں کرنے دینگے، عرب لیگ نے وارننگ جاری کردی۔

عرب لیگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد ’ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین سے جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کی جانے والی کوششوں‘ کے خلاف خبردار کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ماضی میں فلسطینی عوام کو اپنی زمین سے جڑ سے اکھاڑنے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں، خواہ وہ نقل مکانی، الحاق یا آبادکاری میں توسیع کے ذریعے کی گئی ہوں۔‘

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرب لیگ کے جنرل سیکریٹریٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ’لوگوں کو اپنی سرزمین سے زبردستی بے دخل کرنا اور نکالنا صرف نسلی تطہیر کے مترادف ہی ٹھہرایا جا سکتا ہے۔‘

 دوسری طرف غزہ کے عوام کو مصر یا اردن منتقل کرنے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے جواب میں اردنی وزیر خارجہ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

ایمن الصفادی نے کہا ہے کہ اردن کا فلسطینیوں کو بے گھر کرنے سے انکار اٹل اور ناقابل تبدیلی ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ اردن میں ہماری ترجیح فلسطینیوں کو ان کی سرزمین پر مستحکم کرنا ہے۔

 یادرہے مصر اور اردن صدرٹرمپ کی مجوزہ تجویز کو پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں۔

مصر نے صدر ٹرمپ کی تجویز پر سخت خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بیان جاری کیا۔ مصری وزارت خارجہ نے جاری بیان میں مصر کی جانب سے ’ فلسطینی عوام کی اپنی سرزمین پر ثابت قدم رہنے کی حمایت جاری رکھنے‘ کا اظہار کیا۔

بیان میں مصر نے ’ناقابل تلافی حقوق کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو مسترد کیا ہے، خواہ آباد کاری یا زمین کے الحاق کے ذریعے ایسا کیا جائے، یا نقل مکانی کے ذریعے وہاں کے لوگوں کو اپنی سرزمین سے نکالا جائے، چاہے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے عارضی یا طویل مدتی طور پر فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے اکھاڑ پھینکا یا منتقل کیا جائے۔

صدر الفتح السیسی نے اس ممکنہ منصوبے کو ’سرخ لکیر‘ قرار دیا ہے جس سے مصر کی قومی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

پندرہ ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا کہ غزہ ’تباہی کا مقام‘ بن گیا ہے اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ مصر اور اردن غزہ کے لوگوں کو پناہ دیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کے رہائشیوں کو منتقل کرنا ’عارضی یا طویل مدتی‘ منصوبہ ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ نے غزہ کو ’تباہ شدہ علاقے‘ کے طور پر بیان کرتے ہوئے سنیچر کو صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم پورے خطے کو صاف کرنے کے لیے 15 لاکھ افراد کی بات کر رہے ہیں۔ یہ قدم عارضی یا طویل مدتی ہو سکتا ہے۔‘

دوسری طرف حماس کے شعبہ خارجہ تعلقات کے سربراہ باسم نعیم نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام نے صرف اپنی سرزمین کے لیے 15 ماہ تک موت اور تباہی برداشت کی ہے۔ انھوں نے ٹرمپ کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تعمیر نو کی آڑ میں ایسی کسی تجویز کو منظور نہیں کریں گے۔

نعیم نے مزید کہا کہ ’ہمارے لوگ غزہ کی پہلے سے بہتر تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بشرط یہ کہ اس علاقے کا محاصرہ ختم کر دیا جائے۔

Watch Live Public News