ٹک ٹاک کا مستقبل کیا؟ امریکی صدر کا بڑا اعلان

ٹک ٹاک کا مستقبل کیا؟ امریکی صدر کا بڑا اعلان
کیپشن: ٹک ٹاک کا مستقبل کیا؟ امریکی صدر کا بڑا اعلان

ویب ڈیسک: ٹک ٹاک کا مستقبل امریکا کے صدر کے ہاتھ میں ۔۔۔ کئی لوگوں سے رابطے میں ہیں اور ایپ کے مستقبل کا فیصلہ آئندہ 30 دنوں میں ہوجائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نےبڑا اعلان کردیا۔

 رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایئر فورس ون طیارے میں فلوریڈا کی جانب پرواز کے دوران رپورٹرز کو بتایا کہ ’’میں ٹک ٹاک سے متعلق کئی لوگوں سے بات کرچکا ہوں اور ٹک ٹاک کے لیے بہت دلچسپی پائی جاتی ہے۔‘‘

صدر ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا سافٹ ویئر کمپنی اوریکل اور دیگر سے ٹک ٹاک پر بات ہورہی ہے تو انہوں نے کہا کہ’’نہیں، اوریکل سے نہیں۔ متعدد لوگ اس پر مجھ سے بات کر رہے ہیں۔ وہ بہت اہم لوگ ہیں جو اسے خریدنا چاہتے ہیں اور میں ممکنہ طور پر آئندہ 30 دن میں اس پر کوئی فیصلہ کرلوں گا۔ اگر ہم ٹک ٹاک کو بچا لیتے ہیں تو میرے خیال میں یہ بہت اچھی بات ہوگی۔‘‘

اس سے قبل  عالمی ذرائع  ابلاغ نے سورس کے حوالے رپورٹ کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے حکام اور امریکا کی ملٹی نیشنل سافٹ ویئرکمپنی اوریکل کے درمیان ٹک ٹاک کی خریداری کے لیے بات چیت ہورہی ہے۔تاہم صدر ٹرمپ نے ان رپورٹس کی تردید کر دی ہے۔

یاد رہے کہ امریکا میں ٹک ٹاک کے 17 کروڑ سے زائد صارفین ہیں۔ قومی سلامتی سے متعلق تحفظات کی بنیاد پر بنائے گئے ایک قانون کے تحت ٹک ٹاک پر امریکا میں 19 جنوری تک پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے 20 جنوری کو عہدے کا حلف لینے کے اگلے روز ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کرکے ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون پر عمل درآمد 75 دن کے لیے مؤخر کردیا تھا۔

ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں ٹک ٹاک میں 50 فی صد اونرشپ امریکا کے پاس ہونی چاہیے۔

امریکی حکام یہ خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ ٹک ٹاک چین کی ایک کمپنی ’بائٹ ڈانس‘ کی ملکیت ہے جس کی وجہ سے امریکیوں کے ڈیٹا کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔

بائٹ ڈانس کا مؤقف ہے کہ امریکی حکام چین سے اس کے تعلق کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کرتے ہیں اور امریکا میں اس کے صارفین کا ڈیٹا اوریکل کے کلاؤڈ سرورز پر محفوظ کیا جاتا ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر انوپم چندر کا کہنا ہے کہ ’ ٹک ٹاک پر اسی کا تسلط ہو گا جو ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کا سیاسی حلیف ہو گا۔  انہوں نے کہا کہ  ففٹی ففٹی جوائنٹ اونرشپ کا ماڈل قانون کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔ اب یہ بات صدر ٹرمپ کو قانون میں تبدیلی پر اکسا سکتی ہے جس کے بعد وہ اس حوالے سے کانگریس پر دباؤ بڑھائیں گے۔

پروفیسر انوپم چندر کا مزید کہنا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے یہ ایک غلطی کی ہے جس کے تحت قانون میں ٹک ٹاک کی ملکیت کا لامحدود اختیار امریکی صدر کو دے دیا ہے۔ایک بڑے سوشل میڈیا پر خبریں بہم پہنچانے والے پلیٹ فارم کے مستقبل کو سیاسی کشمکش کا حصہ بنانا ایک بہت تباہ کن خیال تھا۔

Watch Live Public News