(ویب ڈیسک ) گورنر اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سال 2025 کا مانیٹری پالیسی کا پہلا اجلاس ہوا ، اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کا اعلان کردیاہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے شرح سود 13 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کردی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ جنوری 2025ء میں افراطِ زر میں مزید کمی آئے گی، کور انفلیشن اس وقت بھی زائد ہے، مالی سال 25ء کے اختتام تک افراطِ زر 7 فیصد تک رہے گی، ریئل انٹرسٹ ریٹ بھی موجودہ سطح پر نہیں رہیں گے، برآمدات، آر ڈی اے سمیت دیگر انفلوز نے کرنٹ اکاؤنٹ کو بہتر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے افراطِ زر اور کرنٹ اکاؤنٹ کے مسائل تھے، دونوں میں کافی بہتری آئی ہے، افراطِ زر گزشتہ کچھ ماہ میں کافی نیچے آیا ہے، افراطِ زر مئی 2023ء کی 38 فیصد سے کم ہوکر دسمبر 2024ء میں 4.1 فیصد تک آگئی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ مالی سال 25ء کی پہلی ششماہی میں سرپلس ریکارڈ ہوا ہے، دسمبر تک زرمبادلہ ذخائر میں توقعات سے زائد اضافہ ہوا، آئی ایم ایف کی پیش گوئیاں سے بھی بہتر صورتحال رہی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا خیر مقدم:
وزیر اعظم شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی کا خیر مقدم کیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پالیسی ریٹ کا 12 فیصد پر آنا ملکی معیشت کے لئے خوش آئند ہے، پالیسی ریٹ میں کمی سے پاکستانی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گ۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی سے ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا، کم افراط زر کی شرح کی بدولت پالیسی ریٹ میں کمی آئی ہے،پر امید ہوں آئندہ مہینوں میں افراط زر میں مزید کمی ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ معیشت کی بحالی کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔