ٹرمپ کا بیان کام نہ آیا، کرپشن کیسز میں نیتن یاہو سےمتعلق عدالت کے سخت احکامات

ٹرمپ کا بیان کام نہ آیا، کرپشن کیسز میں نیتن یاہو سےمتعلق عدالت کے سخت احکامات

ویب ڈیسک: یروشلم اسرائیلی عدالت نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی کرپشن کے مقدمے میں آئندہ سماعتیں مؤخر کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

نیتن یاہو کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وزیر اعظم کو آئندہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والی سماعتوں سے استثنا دیا جائے کیونکہ وہ ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد "سیکیورٹی معاملات" پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔

ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اٹارنی دفتر نے نیتن یاہو کی کرپشن کیسز کی سماعت میں دو ہفتے کے وقفے کی درخواست کی مخالفت کی۔

نیتن یاہو کے دفاعی اٹارنی امیت حداد نے بتایا کہ وزیر اعظم کو ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے تناظر میں سفارتی، قومی اور سلامتی کے امور کے لئے وقف کرنے کے لئے دو ہفتے کی ضرورت ہے۔

امیت حداد نے بتایا کہ ان کی مصروفیات میں غزہ میں جنگ اور یرغمالیوں کے مسئلے سے نمٹنا بھی شامل ہے۔

اس پر جواب میں اٹارنی دفتر نے کہا کہ درخواست میں بیان کردہ عمومی وجوہات دو ہفتے کی سماعت کو منسوخ کرنے کا جواز پیش نہیں کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے نیتن یاہو کی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے ایڈجسٹ کرنے کے لئے پہلے ہی اقدامات کیے ہیں جس میں انہیں ہفتے میں تین بار کے بجائے دو بار گواہی دینے کی اجازت دینا شامل ہے۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو کی طرف سے دو ہفتے کے لئے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیسز ختم کرنے کے مطالبے کے چند گھنٹے بعد جمع کروائی گئی۔

ان کو اپنے خلاف کرپشن کے تین کیسز کا سامنا ہے جن میں رشوت ستانی، دھوکا دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں، تاہم وہ تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

Watch Live Public News