ہندتوا ایجنڈے کے تحت مودی کے بھارت میں مسلم شناخت مٹانے کیلئے مدارس کی تعلیم پر منظم حملہ

ہندتوا ایجنڈے کے تحت مودی کے بھارت میں مسلم شناخت مٹانے کیلئے مدارس کی تعلیم پر منظم حملہ
کیپشن: ہندتوا ایجنڈے کے تحت مودی کے بھارت میں مسلم شناخت مٹانے کیلئے مدارس کی تعلیم پر منظم حملہ

ویب ڈیسک: اتراکھنڈ حکومت نے مدرسہ بورڈ ختم کرنے کا اعلان کیا۔  جولائی 2026 سے تمام مدارس سرکاری نصاب اپنائیں گے یا بند ہوں۔
 بھارتی میڈیا کے مطابق حکومت کے اس اقدام کا مقصد یکساں اور جدید تعلیم فراہم کرنا ہے۔سرکاری نصاب نہ اپنانے والے مدارس بند کر دیے جائیں گے۔ ہندو رہنماؤں نے فیصلے کو قومی دھارے کے لیے مفید قرار دیا ہے۔  بعض رہنماؤں نے مدارس کی بندش اور مذہبی پابندیوں کا مطالبہ کیا تھا۔

مہنت رویندر پوری نے مدارس کو "جہاد" سے جوڑ کر بندش مانگی تھی۔ سوامی کیلاشانند گیری نے کہا، "دیو بھومی میں مدارس کی ضرورت نہیں۔مسلم رہنماؤں نے فیصلے کو غیر قانونی اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔  ناقدین نے کہا اصلاحات مدرسہ بورڈ کے ذریعے بھی ممکن تھیں۔ یہ فیصلہ جولائی 2026 سے اتراکھنڈ میں نافذ ہوگا۔

 ماہرین کے مطابق مودی حکومت میں مسلم تعلیمی ادارے بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہیں۔ بھارت کے تقریباً بیس کروڑ مسلمان ان پالیسیوں سے متاثر ہیں۔ مدارس صدیوں سے غریب مسلمانوں کی تعلیم کا اہم ذریعہ رہے ہیں۔ پالیسی تبدیلیاں مدارس کی مذہبی خودمختاری محدود کرتی جا رہی ہیں۔ اتراکھنڈ میں 250 سے زائد مدارس بند کیے جا چکے ہیں۔ ان بندشوں سے ہزاروں مسلم طلبہ کی تعلیم شدید متاثر ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارت میں چوبیس ہزار سے زائد مدارس فعال طور پر موجود ہیں۔ مدارس میں تقریباً پندرہ سے بیس لاکھ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اقلیتی تعلیم کے لیے مختص فنڈنگ میں نمایاں کمی کی گئی۔

Watch Live Public News