ویب ڈیسک: وائٹ ہاؤس نے ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور حقیقت کے منافی قرار دے دیا ہے۔
واشنگٹن سے جاری بیان میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والی معلومات درست نہیں اور نہ ہی وہ جاری سفارتی رابطوں یا مذاکراتی عمل کی حقیقی صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق رپورٹ میں کیے گئے دعوے حقائق پر مبنی نہیں، تاہم اس معاملے پر مزید تفصیلات یا ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے مجوزہ یادداشتِ مفاہمت کی ابتدائی تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ممکنہ معاہدے کے تحت امریکی افواج ایران کے اطراف سے واپس چلی جائیں گی، جبکہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گی۔
ایرانی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال کرے گا اور بحری سرگرمیوں کو جنگ سے پہلے کی صورتحال کے مطابق معمول پر لایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں فوجی بحری جہاز شامل نہیں ہوں گے، جبکہ Oman کے تعاون سے آبنائے ہرمز کے بحری راستوں اور شپنگ روٹس کے انتظامات ایران کے سپرد کیے جائیں گے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر 60 روز کے اندر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے United Nations Security Council کی پابند قرارداد کی شکل دی جا سکتی ہے۔
تاحال دونوں ممالک کی جانب سے کسی حتمی معاہدے یا پیش رفت کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔