ویب ڈیسک: پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے نے نہ صرف علاقے کو ہلچل میں مبتلا کر دیا بلکہ کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کی طرف سے بھی شدید ردعمل کا سامنا کیا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے حکومت کو دہشت گردوں اور عام لوگوں میں فرق کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق اور مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس حملے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد حکومت کو دہشت گردوں اور عام لوگوں میں تمیز کرنی چاہیے، اسے عام لوگوں، خصوصاً ان لوگوں کو متنفر نہیں کرنا چاہیے جو دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں۔
حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ کشمیری اجتماعی طور پر پہلگام واقعے کی مذمت کرتے ہیں، اس کے ذمہ داروں کو سزا ہونی چاہیے تاہم بلا امتیاز گرفتاریاں اور لوگوں کے گھروں کو گرانے کی ویڈیوز پریشان کن ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کے متاثرین کو انصاف فراہم کرتے ہوئے عام کشمیریوں کو سزا نہ دے۔
علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کو سزا نہیں دینی چاہیے، وہ پہلگام واقعے کیخلاف باہر آئے ہیں۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ حملے کے ذمہ داروں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرے، مگر بےقصور لوگوں کو متاثر ہونے نہ دے۔
عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ یہ وقت سپورٹ حاصل کرنے کا ہے، ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے لوگ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کریں، کشمیر کے لوگوں نے معصوم جانوں کے ضیاع کیخلاف باہر آکر احتجاج کیا ہے۔
کشمیری رہنماؤں نے پہلگام واقعے کے بعد بھارت میں کشمیری طلبہ پر تشدد اور ان کی ہراسانی کے واقعات پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔