(ویب ڈیسک ) اسپین اور پرتگال پیر کی صبح ایک بڑے بلیک آؤٹ کی زد میں آ گئے، جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔ اس بجلی کے تعطل نے دارالحکومت میڈرڈ، لزبن اور جنوب مغربی فرانس کے کچھ حصوں کو بھی متاثر کیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اس اچانک بجلی کی بندش سے ٹرینیں، میٹرو سروسز، فون لائنز، ٹریفک سگنلز، اے ٹی ایمز اور انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوئیں۔
اسپین کی حکومت نے فوری طور پر ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں وزیراعظم پیدرو سانچیز اور دیگر اہم وزراء شریک ہوئے۔

اسپین کے نیشنل پاور آپریٹر "ریڈ الیکٹرکاکا" نے بتایا کہ وہ مختلف علاقوں میں بجلی بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کچھ شمالی و جنوبی علاقوں میں بحالی کا کام جزوی طور پر مکمل ہو چکا ہے۔
ترجمان کے مطابق مکمل بحالی میں 6 سے 10 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

اس واقعے کے پیچھے ممکنہ سائبر حملے کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں، جس کی تحقیقات اسپین کا قومی سائبر سیکیورٹی ادارہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب اسپین کی قومی سلامتی کونسل نے بھی اس معاملے پر خصوصی اجلاس بلایا ہے۔
ادھر پرتگال میں بھی صورت حال کچھ مختلف نہ تھی۔ دارالحکومت لزبن سمیت شمالی و جنوبی علاقوں میں بجلی بند ہو گئی۔
پرتگالی حکومت نے کہا کہ یہ مسئلہ شاید اسپین کے بجلی کے تقسیم کار نظام میں خرابی کے باعث ہوا۔ پرتگال کے وزیر انٹونیو لیتاؤ آمارو کے مطابق "یہ خرابی اسپین کے نیٹ ورک سے جڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔"

اس بلیک آؤٹ سے اسپین کی ریل سروسز مکمل طور پر رک گئیں، جبکہ کئی ہوائی اڈوں پر بھی معمولات متاثر ہوئے۔ میڈرڈ اور دیگر شہروں میں ٹریفک لائٹس بند ہونے کے باعث سڑکوں پر گاڑیاں رینگنے لگیں اور پولیس نے خود سڑکوں پر آ کر ٹریفک کنٹرول کیا۔
مشہور اخبار 'ال پائس' نے اپنی ویب سائٹ پر ویڈیوز اور تصاویر جاری کیں جن میں لوگ میٹرو کے اندھیرے ٹنلز میں رستہ تلاش کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جب کہ ان کے صحافی ٹارچ کی روشنی میں کام کر رہے ہیں۔
اسپین کی وزارت صحت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام ہسپتالوں میں متبادل بجلی کے نظام موجود ہیں اور مریضوں کی دیکھ بھال متاثر نہیں ہوئی۔
اسپین کی بجلی کی ویب سائٹ پر ایک گراف کے مطابق دوپہر 12:15 بجے بجلی کی طلب میں زبردست کمی آئی – جو 27,500 میگاواٹ سے کم ہو کر تقریباً 15,000 میگاواٹ پر آ گئی۔
یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ اسپین اور پرتگال کی حکومتوں سے رابطے میں ہے تاکہ اس واقعے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔