(ویب ڈیسک) کشمیر ایک حل طلب بین الاقوامی تنازع ہے اور جنوبی ایشیا کا سب سے حساس ایٹمی فلیش پوائنٹ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی ثالثی اور عالمی برادری کی تشویش نے اس مسئلے کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔ اس کے باوجود بھارت کا جارحانہ “نیو نارمل” نظریہ پاکستان کی جوہری ڈیٹرنس کو نظر انداز کرتے ہوئے بے قابو کشیدگی اور عالمی امن کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔
کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے جڑا ایک دیرینہ تنازع ہے، جو کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا تقاضا کرتا ہے اور عالمی سطح پر ایک ممکنہ ایٹمی تصادم کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
22 اپریل 2025 کے پہلگام واقعے، جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے، کے بعد بھارت نے بغیر ٹھوس شواہد پاکستان پر الزام عائد کیا، جس کے بعد کشیدگی بڑھی اور 10 مئی 2025 کو پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے تحت جوابی کارروائی کی۔ اس کارروائی میں 20 سے زائد بھارتی عسکری مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا، جن میں بیاس میں براہموس میزائل ڈپو اور ادھم پور، پٹھانکوٹ اور جالندھر کے ہوائی اڈے شامل تھے، جبکہ سری نگر میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔
5 مئی 2025 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مستقل اراکین نے آزادانہ تحقیقات، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا۔ چین نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی، روس نے ثالثی کی پیشکش کی، جبکہ کسی بھی رکن نے پاکستان پر الزام عائد نہیں کیا۔ اقوام متحدہ، او آئی سی اور ہیومن رائٹس واچ جیسے اداروں نے شفاف تحقیقات کی حمایت کی۔
بھارت کا “نیو نارمل” نظریہ، جسے 12 مئی 2025 کو مودی نے پیش کیا، ایک اہم پالیسی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس میں دہشت گردی کے خلاف “زیرو ٹالرنس”، سرحد پار خطرات پر فوری روایتی کارروائی اور جوہری ڈیٹرنس کو نظر انداز کرنے کی بات شامل ہے۔ یہ حکمت عملی جنوبی ایشیا میں استحکام کو متاثر کر سکتی ہے اور کشیدگی کے خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔
اس طرز عمل کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ کشیدگی کے موجودہ توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور کسی بھی محدود تنازع کو بڑے تصادم میں تبدیل کرنے کا خدشہ پیدا کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کی اور اسے ایک دیرینہ تنازع قرار دیا۔ انہوں نے 10 مئی 2025 کی جنگ بندی میں اپنے کردار کا بھی ذکر کیا اور اس سلسلے میں عالمی سطح پر بیانات دیے۔ اس کے باوجود بھارتی قیادت کشمیر کو دوطرفہ معاملہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی ثالثی کی مخالفت کرتی رہی ہے، جبکہ بعض عالمی فورمز پر مشترکہ مؤقف تشکیل دینے میں بھی مشکلات سامنے آئیں۔
کشیدگی کے دوران مختلف دعوے اور بیانات سامنے آئے، تاہم بعد میں بعض سرکاری بیانات میں کشیدگی کم کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی۔ دیگر ممالک جیسے ایران اور سعودی عرب کی جانب سے بھی ثالثی کی پیشکشیں سامنے آئیں، جبکہ امریکی سفارتی رابطوں نے صورتحال کی حساسیت کو اجاگر کیا۔
کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے اور جنوبی ایشیا کا ایک اہم ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے جس پر عالمی توجہ ضروری ہے۔ بھارت کا “نیو نارمل” نظریہ خطے میں جوہری توازن اور امن کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ امریکی قیادت کی جانب سے متعدد بار ثالثی کی پیشکشیں اس مسئلے کی بین الاقوامی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔عالمی سطح پر اس تنازع کے حل کے لیے مختلف آراء اور تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے مسائل کو نظر انداز کرنا خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔مجموعی طور پر، یہ صورتحال جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور سفارتی حل کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جہاں تمام فریقین کے مؤقف اور عالمی اصولوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔