ویب ڈیسک: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار بیرسٹر افتخار گیلانی کو ریاست کا 17واں وزیراعظم منتخب کرلیا۔ انہوں نے قائدِ ایوان کے انتخاب میں 30 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مدمقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار مختار خان کو 14 ووٹ ملے۔
مسلم لیگ (ن) کو اسمبلی میں عددی برتری حاصل ہونے کے باعث افتخار گیلانی نے کامیابی حاصل کی۔
سیاسی اور قانونی پس منظر
بیرسٹر افتخار گیلانی کا شمار آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے نمایاں رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق مظفرآباد کے ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے اور وہ قانون، تعلیم اور پارلیمانی سیاست میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی، جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ گئے اور وہاں سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں وکالت شروع کی اور تقریباً ایک دہائی تک شعبہ قانون سے وابستہ رہے۔ اس دوران انہیں آئینی اور قانونی امور پر بھی کام کرنے کا تجربہ حاصل ہوا۔
مسلم لیگ (ن) سے سیاسی سفر
افتخار گیلانی نے 2011 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے کامیابی حاصل کرکے پہلی مرتبہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قدم رکھا۔ اس وقت آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور انہیں انتخابی میدان میں پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کے اتحاد کا سامنا تھا۔
2016 کے عام انتخابات میں بھی انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی اور دوسری مرتبہ رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس انتخاب میں انہوں نے اپنے سیاسی حریف خواجہ فاروق احمد کو نمایاں برتری سے شکست دی۔
وزارتِ تعلیم
سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر کی حکومت میں افتخار گیلانی کو محکمہ تعلیم کا قلمدان سونپا گیا۔ ان کے دور میں تعلیمی نظام میں اصلاحات، میرٹ اور گڈ گورننس پر زور دیا گیا۔ محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کے نظام کو آگے بڑھانے سمیت تعلیمی معیار میں بہتری اور انتظامی اصلاحات ان کی وزارت کے اہم ترجیحات میں شامل رہیں۔
2026 کے انتخابات میں شکست، پھر اسمبلی میں واپسی
حالیہ 2026 کے عام انتخابات میں افتخار گیلانی نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے ایل اے 29 مظفرآباد 3 سے انتخاب لڑا، تاہم کامیاب نہ ہوسکے۔ اس حلقے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد خان نے 20 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ افتخار گیلانی 16 ہزار 507 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
عام نشست پر شکست کے باوجود افتخار گیلانی سیاسی منظرنامے سے باہر نہیں ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) نے انہیں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کے لیے نامزد کیا، جہاں کامیابی کے بعد وہ دوبارہ قانون ساز اسمبلی کا حصہ بن گئے۔
یوں عام نشست پر شکست کے چند ہی دن بعد وہ مخصوص نشست کے ذریعے دوبارہ اسمبلی پہنچ گئے اور بعد ازاں وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار بھی بن گئے۔
وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزدگی
مسلم لیگ (ن) نے حکومت سازی کے لیے مشاورت کے بعد افتخار گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والی مشاورت میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر، نومنتخب اسپیکر چوہدری طارق فاروق، ڈپٹی اسپیکر احمد رضا قادری اور دیگر رہنماؤں کے علاوہ افتخار گیلانی بھی شریک ہوئے۔
ان کی نامزدگی کے بعد مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے اندر بعض سینیئر رہنماؤں کے تحفظات بھی سامنے آئے۔ پارٹی صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر کی جانب سے فیصلے سے اختلاف کی اطلاعات سامنے آئیں۔
نئے وزیراعظم کو درپیش چیلنجز
وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد افتخار گیلانی کو متعدد سیاسی، انتظامی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ ایکشن کمیٹی کے احتجاج سے پیدا ہونے والی صورتحال، گڈ گورننس، مالی و انتظامی معاملات، تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار ان کی حکومت کے لیے اہم آزمائشیں ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا اور مسلم لیگ (ن) کے اندر اتحاد برقرار رکھنا بھی نئے وزیراعظم کے لیے ایک اہم چیلنج ہوگا۔
قانون، تعلیم اور سیاست کے شعبوں میں تجربہ رکھنے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کے لیے اب اصل امتحان اس تجربے کو حکومتی کارکردگی میں تبدیل کرنا اور درپیش سیاسی و انتظامی چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔