ویب ڈیسک :سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی آخری رسومات دہلی کے نگم بودھ گھاٹ پر سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔
اس موقع پر ملک بھر کی سیاسی قیادت کے علاوہ بھارت کےعام شہری بھی ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے جنہوں نے انہیں اشک آلود آنکھوں س، آنسوؤں اور سسکیوں سے الوداع کہا ۔ منموہن سنگھ کی آخری رسومات میں جہاں بھارتی صدر دروپدی مرمو، وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ موجود رہے وہیں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سابق وزیر اعظم کے آخری سفر میں ہر جگہ موجود رہے۔
ان کی ارتھی کانگریس دفتر سے نگم بودھ گھاٹ تک نکالی گئی۔ منموہن سنگھ کا آخری سفر کانگریس دفتر سے اکبر روڈ سے انڈیا گیٹ، انڈیا گیٹ سے تلک مارگ، تلک مارگ ہوتے ہوا نکلا۔
بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کےدفتر میں جہاں عام لوگوں نے ان کے دیدار کئے وہیں کانگریس کے اعلی رہنماؤں نے بھی ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔
کانگریس سمیت دیگر سیاسی جماعتیں ان کی یادگار بنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جس پر حکومت نے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس کے لیے ٹرسٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ منموہن سنگھ کا انتقال 26 دسمبر کی رات دہلی کے ایمس اسپتال میں ہوا تھا۔ 10 برسوں تک ملک کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر منموہن سنگھ کا 92 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسوم میں شامل ہونے کے لیے ماریشس کے وزیر خارجہ بھی پہنچے۔ بھوٹان کے راجہ بھی اس موقع پر موجود رہے۔
آنجہانی منموہن سنگھ کا کنبہ بھی اس دوران موجود تھا۔ منموہن سنگھ کے آخری سفر کے موقع پر لوگوں کا اژدہام دیکھنے کو ملا جو اپنے رہنما کا آخری دیدار کر رہا تھا اور سبھی کی آنکھیں نم تھیں۔
دنیا بھر کی میڈیا تنظیموں نے بھی منموہن سنگھ کے انتقال پر سوگ ظاہر کیا ہے۔
برطانوی اخبار فائنانشیل ٹائمز نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بارے میں لکھا ہے "ان کا پہلا دور قرض معافی، منریگا اور آر ٹی آئی کے لیے جانا جاتا ہے۔ 2008 میں منموہن سنگھ نے جوہری معاہدہ کے لیے حکومت کو داؤ پر لگا دیا تھا۔"
امریکی اخبار بلومبرگ نے لکھا "ان کی کہانی لوگوں میں خود اعتمادی بھر دیتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ تعلیم، سخت محنت سے ہماری زندگی ہمارے ماں-باپ کی زندگی سے بہتر ہو سکتی ہے۔" ایک اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا وہ سکھ طبقہ سے آئے تھے۔ وہ اس وقت پہلی بار وزیر اعظم بنے تھے، جب ہندوستان کا سیکولرازم خطرے میں تھا۔ منموہن سنگھ نے یہ ثابت کیا تھا کہ کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان آج جیسا رشتہ ہے وہ منموہن سنگھ کے ویژن کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ بائیڈن نے منموہن سنگھ کو سچا محب وطن اور ملک کے لیے وقف رہنما بتایا۔
منموہن سنگھ کے انتقال پر روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بھی غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے منموہن سنگھ کو ایک عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اور دوسرے عہدوں پر رہتے ہوئے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کو بڑھاوا دینے کے لیے عالمی منچ پر انہوں نے اپنی آواز بلند کی ہے۔
وہیں ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے ڈاکٹر منموہن سنگھ سے اپنے نزدیکی رشتے کا ذکر کرتے ہوئے ان کے انتقال پر اپنے گہرے صدمے کا اظہار کیا۔
مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید نے کہا "منموہن سنگھ ایک رحم دل والد کی طرح تھے۔ وہ مالدیپ کے اچھے دوست تھے۔ وہیں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کہا کہ بھارت نے سب سے شاندار بیٹوں میں سے ایک کو کھو دیا ہے۔