ویب ڈیسک: امریکا کی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرسنل مینجمنٹ دفتر کے احکامات کو منسوخ کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق وفاقی ملازمین کی برطرفی کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے پرسنل مینجمنٹ دفتر کے جاری کردہ احکامات کو کیلیفورنیا کی عدالت نے عارضی طور پر روکنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے امریکا کے مختلف سرکاری اداروں بشمول وزارت دفاع کے ملازمین کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ فوری طور پر برطرفی کے احکامات کو منسوخ کیا جائے۔
عدالت کے جج نے متعلقہ دفاتر کو احکامات جاری کیے ہیں کہ 20 سے زائد سرکاری ادارے ابتدائی چند ماہ کی ملازمت کرنے والے سرکاری ملازمین کی برطرفی کو فوری طور پر روک دے۔ عدالت کے مطابق ملازمین کی برطرفی کا اختیار صرف متعلقہ ادارے کو ہے، اس لیے پرسنل مینجمنٹ کے دفتر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے ادارے کے ملازمین کو نوکری یا برطرف کرے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس وقت امریکا میں 2 لاکھ سے زائد ایسے سرکاری ملازمین ہیں جن کی مدت ملازمت کو ابھی 6 ماہ بھی نہیں ہوئے ہیں۔
سان فرانسسکو کی عدالت کے وفاقی جج نے جمعرات کو نتیجہ اخذ کیا کہ وفاقی اداروں میں کام کرنے والے عارضی ملازمین کی برطرفیاں ممکنہ طور پر غیرقانونی ہیں۔
لیبر یونین اور بعض تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فیڈرل ورک فورس کی چھانٹی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر سماعت کرتے ہوئے جج نے درخواستوں گزاروں کو عارضی ریلیف دیا ہے۔
ڈسٹرکٹ جج ولیم السپ نے حکم میں کہا ہے کہ آفس آف پرسنل مینیجمنٹ (او پی ایم) وفاقی اداروں کو آگاہ کرے کہ وہ محکمۂ دفاع سمیت دیگر وفاقی اداروں سے عارضی ملازمین کی برطرفیوں کا مجاز نہیں ہے۔
جج نے کہا کہ او پی ایم کا اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے تئیں ملازمین کو ملازمت پر رکھے یا انہیں برطرف کرے۔
وفاقی اداروں میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین برطرف کیے جا چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ وفاقی اداروں میں اضافی ورک فورس کو غیر ضروری اور نااہل قرار دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ پانچ مزدور یونینز اور پانچ غیر منافع بخش تنظیموں نے عارضی ملازمین کی برطرفیوں کے خلاف مختلف درخواستیں دائر کی تھیں۔