گوگل میپس پر’’ خلیج أف میکسیکو ’’خلیج آف امریکا قرار

Google use Trump's new names for Denali, Gulf of Mexico
کیپشن: Google use Trump's new names for Denali, Gulf of Mexico
سورس: google

ویب ڈیسک :امریکی کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اپنے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ گوگل میپس امریکی جغرافیائی ناموں کے نظام میں باضابطہ طور پر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد " خلیج میکسیکو" کا نام تبدیل کر کے " خلیج آف امریکا" کر دیا گیا ہے۔

کمپنی نے وضاحت کی کہ یہ تبدیلی صرف ریاستہائے متحدہ امریکا میں نظر آئے گی، جب کہ میکسیکو کے اندر "گلف آف میکسیکو" کا نام استعمال میں رہے گا۔ دونوں ممالک سے باہر کے صارفین کے لیے دونوں نام گوگل میپس پر ایک ساتھ نظر آئیں گے۔

 رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے محکمہ داخلہ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ اس نے باضابطہ طور پر ’ خلیج میکسیکو‘ کا نام بدل کر ’ خلیج امریکا‘ کر دیا ہے۔ الاسکا میں شمالی امریکا کے سب سے اونچے پہاڑ ڈینالی کا نام تبدیل کر کے ماؤنٹ میک کینلے رکھ دیا گیا ہے۔

گوگل نے کہا کہ وہ ماؤنٹ میک کینلے کے لیے اپنے نقشوں میں اسی طرح کی تبدیلی کرے گا۔

یہ فیصلے صدر ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ انتخابی وعدوں کی تکمیل کے لیے 20 جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے چندگھنٹے بعد کیے گئے جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

"صدر کی ہدایت پر گذشتہ ہفتے وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ خلیج میکسیکو کو اب باضابطہ طور پر خلیج امریکا کے نام سے جانا جائے گا۔شمالی امریکہ کی سب سے اونچی چوٹی ایک بار پھر ماؤنٹ میک کینلے کا نام سے موسوم ہوگئے "۔

اس ماہ کے شروع میں میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے مذاق میں شمالی امریکہ بشمول ریاستہائے متحدہ کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے اس کے لیے "میکسیکن امریکہ" کا نام تجویز کیا تھا۔

گوگل کے ترجمان نے ایکس پر کمپنی کی پوسٹ کے حوالے سے اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔

 
 

Watch Live Public News