علماء کرام دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے اپنا کردار ادا کریں، وزیراعظم 

علماء کرام دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے اپنا کردار ادا کریں، وزیراعظم 

(ویب ڈیسک ) وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اتحاد و اتفاق سے پاکستان کے معاشی و  معاشرتی چیلنجز اور دہشت گردی پر قابو پائیں گے، ہماری کامیابی کا راز اتحاد، اتفاق، انتھک محنت اور جذبہ حب الوطنی میں مضمر ہے، قومی ترقی میں کردار ادا کرنا ہر شعبہ زندگی کے فرد کی ذمہ داری ہے، علماء کرام دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے  ان خیالات کا اظہار جمعہ کو "رب ذوالجلال کا احسان ۔ پاکستان ڈے "کی  مناسبت سے  وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا انعقاد جمعۃ الوداع بالخصوص رمضان المبارک کی 27 ویں شب کی مناسبت سے کیا گیا۔ پاکستان  لیلۃ القدر، جمعۃ الوداع، ماہ رمضان المبارک 1366ھ بمطابق 14 اگست 1947ءکو وجود میں آیا۔

تقریب میں وفاقی وزراء،  اراکین پارلیمنٹ، اسلامی ممالک کے سفیروں ، علماء کرام پاکستان بھر سے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد  اور نوجوانوں نے  شرکت کی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ میرے لئے اس تقریب میں شرکت اعزاز ہے، رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کی صورت میں ایک نعمت جیسا عظیم تحفہ دیا جس پر اﷲ کا جتنا شکر ادا کریں، وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام کسی معجزے سے کم نہیں، پاکستان کے قیام کیلئے کی گئی جدوجہد کی مثال کم ہی ملتی ہے، اس نعمت کا شکر تب ہی ادا کیا جا سکتا ہے کہ ہم اپنے اجداد کی عظیم قربانیوں اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کریں جن کی قربانیوں سے پاکستان معرض وجود میں آیا، آج 77 سال بعد ان قربانیوں کا تقاضا یہ ہے کہ آئیں یکجان دو قالب ہو جائیں اور اتفاق و اتحاد سے پاکستان کو درپیش معاشی، معاشرتی مسائل اور دہشت گردی کا خاتمہ کریں، اس میں جہاں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا فرض ہے وہاں سب سے بڑی ذمہ داری علماء کرام کی ہے، دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ایک مرتبہ پھر افواج پاکستان قربانیاں دے رہی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ اس ملک میں تفریق اور مذہبی منافرت یا ذاتی خواہشات کو آگے لانے کیلئے قومی مفاد کو قربان کرنے کی سوچ ان قربانیوں سے بے وفائی ہے، پاکستان کیلئے بڑی قربانیاں دی گئیں، آج یہاں ترقی و خوشحالی کی بجائے اندرونی تفریق ہے، ملکی استحکام، عزت اور وقار داؤپر لگایا جا رہا ہے جس پر آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ  ابھی بھی کچھ نہیں گیا، ہم فیصلہ کر لیں کہ پاکستان کے وسیع تر مفاد کی خاطر اپنی تمام ذاتی خواہشات اور انا کو پاکستان کے تابع کر دیں، اس سے بڑی پاکستان کی کوئی اور خدمت نہیں ہو سکتی۔ رمضان المبارک ہم سب پاکستانیوں کیلئے انتہائی امید کا حامل ہے، پاکستان دنیا کی واحد اسلامی نظریاتی قوت ہے جسے اﷲ تعالیٰ نے جوہری قوت سے نوازا ہے، ایٹمی پھیلاؤکے خلاف پوری دنیا کی جوہری طاقتیں متحد ہیں اور اس سے تجاوز کرنے والے کو سزا دینے کیلئے تیار ہیں، ہم اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ 1998ء میں پاکستان ایٹمی قوت بنا۔

ان کا کہنا تھا کہ اﷲ نے   پاکستان کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں بہادر فوج کے ساتھ ساتھ جوہری طاقت سے بھی نوازا ہے، کوئی بھی دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، یہ اﷲ تعالیٰ کا پاکستان پر بڑا کرم ہے، اس کے علاوہ بھی بے شمار نعمتیں عطاء کی ہیں، بہترین ذہن دیئے ہیں، ملک میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ہے، اﷲ نے پاکستان کو بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازا ہے، کھربوں ڈالر کے خزانے پہاڑوں میں پوشیدہ ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے خطاب میں کہا کہ   پاکستان میں دہشت گردی کے تانے بانے دور تک جاتے ہیں، ان دہشت گردوں کو جہاں سے سیاسی اور مالی مدد ملتی ہے اس کا ایک مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو جو بے پناہ قدرتی وسائل دستیاب ہیں ان سے پاکستان فائدہ نہ اٹھا سکے، ایسی سوچ رکھنے والے عقل کے اندھے ہیں، ان وسائل کے بل بوتے پر ہم اپنی قوم کو خوشحال اور اپنے ذمہ قرضے ختم کر سکتے ہیں اور اپنا سر فخر بلند کرکے اقوام عالم میں شامل ہو سکتے ہیں، اس میں رکاوٹ ڈالنے والے عقل کے اندھے ہوں گے، ایسے لوگ پاکستان کے دشمن اور ایجنٹ ہیں، انہیں پاکستان کی ترقی و خوشحالی گوارہ نہیں، انہیں جہاں سے مالی مدد ملتی ہے ہم سب اس سے اچھی طرح واقف ہیں، آج رمضان المبارک میں ہمیں اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ کب تک یہ خون بہایا جاتا رہے گا، کب تک ہماری افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان اپنی جانوں کی قربانیاں دیتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ  آج کا دن یہ تقاضا کرتا ہے کہ اﷲ کے حضور سربسجود ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور صدق دل سے سبق حاصل کرکے آگے بڑھیں،  قوم کے اتحاد اور خوشحالی کیلئے ذاتی اختلافات کو دفن کریں، ذاتی خواہشات کو قربان کریں، اسی طرح ہم اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں، قائداعظم نے بھی ہمیں ''کام، کام اور صرف کام'' کا درس دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم اور علامہ اقبال نے ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جہاں ہر کوئی اپنی مذہبی آزادی برقرار رکھ سکے، پاکستان ایسی ریاست بنے جس میں اقلیتیں بھی آزاد ہوں اور ان کے حقوق کا بھرپور تحفظ کیا جائے، قائداعظم نے فرمایا تھا کہ پاکستان کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم صرف غیر ملکی حکومت سے آزادی چاہتے ہیں اس سے حقیقی مراد اسلامی نظریہ ہے جس کا تحفظ نہایت ضروری ہے اور اس مقصد کیلئے ہم سب کو من حیث القوم اپنی توانائیاں صرف کر دینی چاہئیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ   پاکستان اس لئے معرض وجود میں نہیں آیا تھا کہ ہم قرض کی زندگی بسر کرتے رہیں، جب تک ہم پاکستان کو مضبوط معاشی قلعہ نہیں بنا لیتے تب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا، معاشی آزادی کے بغیر سیاسی آزادی ممکن نہیں، اس مہینے میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے۔ ہمارے دستور میں کہا گیا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو اس قابل بنائے گی کہ وہ اپنی زندگیاں اسلام کے مطابق گزار سکیں، پاکستان میں کوئی قانون اور ضابطہ قرآن و سنت کے منافی نہیں بن سکتا۔

شہباز شریف نے کہا کہ  ہماری حکومت اپنے اخراجات میں کمی کرے، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں جدید علوم و ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کیلئے جتنے وسائل درکار ہوئے وہ مہیا کریں گے۔

 وزیراعظم  نے کہا کہ  وزیراعظم یوتھ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے انقلابی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، اس کے ثمرات جلد سامنے آئیں گے، نوجوانوں نے مسلسل محنت، نظم و ضبط اور مقصد میں پختہ یقین محکم سے اپنے والدین، بانیان پاکستان اور پوری قوم کی توقعات پر پورا اترنا ہے، عصری دنیا میں میڈیا، سوشل میڈیا اور نوجوانوں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے، میڈیا کی طاقت کو مثبت تبدیلی لانے کیلئے استعمال کیا جانا اشد ضروری ہے، علماء اور دانشوروں سے گزارش ہے کہ وہ مثبت سوچ اور تحقیق کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ غلط معلومات اور پروپیگنڈا کو روکا جا سکے، بدقسمتی سے آج غلط معلومات اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے معاشرے میں زہر گھولا جا رہا ہے اور تقسیم پیدا کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقی و خوشحالی امن کے ساتھ جڑی ہے جبکہ امن و سکون ترقی اور خوشحالی کے ساتھ جڑا ہے، ہمیں سمجھنا چاہئے کہ اگر مل کر آگے بڑھیں گے تو یہ ملک چند سالوں میں نہ صرف خطے کے ہمسایہ ممالک کو پیچھے چھوڑ دے گا بلکہ قائداعظم کے خواب کو ضرور شرمندہ تعبیر کریں گے۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ ہم فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جو قابض اور ظالم افواج کے ظلم و جبر کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، فلسطین میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل نے پھر نسل کشی کا وحشیانہ سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے، 50 ہزار فلسطینیوں کو شہید کیا گیا ہے جو سراسر ظلم ہے جو انسانیت کی برداشت سے باہر ہو چکا ہے، پاکستان کے 24 کروڑ عوام اس کی مذمت کرتے رہیں گے، ہم دعاگو ہیں کہ اﷲ تعالیٰ ان مظلوم خطوں کے مسلمانوں کو آزادی عطاء فرمائے۔ 

انہوں نے مزید  کہا کہ ہماری کامیابی کا راز اتحاد، اتفاق، انتھک محنت اور جذبہ حب الوطنی میں مضمر ہے، اﷲ نے پاکستان کو اپنی خاص رحمت سے نوازا ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دنیا کو بتا دیں کہ ہم محبت، انصاف، امن اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں ترقی کرتا ہوا عظیم ملک پاکستان ہیں، اﷲ پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہمیں ملک و قوم کی خدمت کے مشن میں کامیابی سے ہمکنار کرے۔

Watch Live Public News