ویب ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں خلیجی ممالک نے امریکا کو واضح پیغام دیتے ہوئے صرف عارضی جنگ بندی کو ناکافی قرار دے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مؤقف خلیجی تعاون کونسل (GCC) کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے کو صرف وقتی سیز فائر نہیں بلکہ طویل المدتی اور پائیدار سیکیورٹی ضمانتوں کی ضرورت ہے، خاص طور پر ایران کے ڈرون اور میزائل خطرات کے پیش نظر دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
کونسل کے مطابق خطے میں استحکام کے لیے صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ علاقائی سیکیورٹی کا مستقل فریم ورک تشکیل دینا ضروری ہے۔
امارات پالیسی سینٹر کے صدر ابتسام الکربی نے کہا کہ اصل چیلنج صرف جنگ روکنا نہیں بلکہ مستقبل میں خطے کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنانا ہے، جو ایران کی جانب سے جنم لے سکتے ہیں۔
اسی طرح امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے بھی جنگ بندی کو ایک “امتحان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود یا کنٹرول نہ کیا گیا تو جنگ بندی کے بعد بھی خطے اور عالمی معیشت کو خطرات لاحق رہ سکتے ہیں۔
خلیجی تعاون کونسل نے اپنے مطالبات میں یہ نکتہ بھی شامل کیا ہے کہ ایران سے منسلک پراکسی گروپس، خصوصاً یمن اور غزہ میں سرگرم مسلح دھڑوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کونسل نے امریکا پر زور دیا ہے کہ محض سفارتی بیانات کے بجائے خطے میں عملی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ دیرپا امن اور استحکام ممکن ہو سکے۔