ویب ڈیسک: آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی مد میں ریکارڈ وصولیوں کا ہدف تجویز کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو مہنگائی کی ایک اور شدید لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1,311 ارب روپے جمع کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ ہدف رواں مالی سال کے مقررہ ہدف یعنی 1,117 ارب روپے سے 194 ارب روپے زائد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں اس قدر اضافہ براہ راست پٹرول، ڈیزل اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں کو متاثر کرے گا، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور بجلی کی لاگت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
معاشی حلقے اس اقدام کو آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، تاہم اس کا براہ راست بوجھ عام شہریوں پر پڑنے کا اندیشہ ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔