پانی ہماری ریڈ لائن ہے ،بھارت کو پانی نہیں روکنے دیں گے، وزیر اعظم 

پانی ہماری ریڈ لائن ہے ،بھارت کو پانی نہیں روکنے دیں گے، وزیر اعظم 

(ویب ڈیسک ) وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پانی ہماری ریڈ لائن ہے ، بھارت کو پانی نہیں روکنے دیں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف سے سہ فریقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور آذری عوام کو یوم آزادی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، آذری قوم نے بھرپور جدوجہد سے دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو پی کے کے  کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، اس سے نہ صرف خطے بلکہ اس سے باہر بھی ترکیہ کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آذربائیجان میں بھرپور استقبال اور میزبانی پر صدر الہام علیوف کا شکرگزار ہوں، آج کا اجلاس تین حقیقی دوست ممالک کے خلوص کا مظہر ہے، ہمارے دل خوشی سے لبریز ہیں، گزشتہ سال مئی میں آستانہ میں سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں باہمی مفاد کے شعبوں پر مفید بات چیت ہوئی تھی، آج ہم اس سہ فریقی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں جو ہمارے عوام کی خواہشات کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ  پاکستان، آذربائیجان اور ترکیہ گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات میں جڑے ہیں اور دہائیوں پرانی مشترکہ اقدار رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، چاہے یہ کاراباخ، کشمیر اور شمالی ترکیہ قبرص کا مسئلہ ہو، ہماری یکجہتی اور باہمی احترام ہماری طاقت ہے، یہ قدرتی بات ہے کیونکہ ہمارے عوام اس کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور اس کا اظہار ترکیہ اور آذربائیجان کیلئے محبت سے ہوتا ہے۔

وزیراعظم  نے کہا کہ حال ہی میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارت نام نہاد پہلگام واقعہ سے متعلق پاکستان کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا بلکہ ہماری غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ  دنیا کو مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلیوں، بیماریوں اور معاشی بحران سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، اس تناظر میں یہ تین مثالی ملک یہاں اکٹھے ہوئے ہیں، ہم ہمدردی کی امید رکھتے ہیں اور تنازعات کو مسترد کرتے ہیں، ہم پرامید ہیں کہ صبر و تحمل اور دانشمندی سے امن و خوشحالی آئے گی۔

وزیراعظم  شہباز شریف نے کہا کہ غیر متوقع اور غیر مستحکم دنیا میں سیاسی استحکام کی تعمیر، ہم آہنگی کا فروغ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نئی حقیقتوں کو جنم دے رہی ہیں، موجودہ صورتحال میں دو برادر ممالک ترکیہ اور آذربائیجان ہمارے ساتھ کھڑے ہیں جو خوش قسمتی کی بات ہے، ہم ان پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اعتماد کرتے ہیں، اتحاد، امن، انصاف اور اخلاقیات کیلئے ہمارے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے آزمودہ تعلقات نہ صرف ہمارے اپنے عوام بلکہ خطے اور اس سے باہر امن و خوشحالی کیلئے مفید ہوں گے۔ یہ سہ فریقی اجلاس ہم سب کیلئے بروقت اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس سے ہمیں ضروری سیاسی عزم اور مختلف شعبوں میں اجتماعی اور کثیریت سے آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے۔

وزیراعظم  نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت تنازعہ سنگین تھا، بھارت نے پاکستان کے خلاف بلاجواز جارحیت کی اور پاکستان پر حملہ کیا، ترکیہ کے صدر  رجب طیب اردوان اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے پاکستان عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا مظاہرہ کیا جو کہ قابل تعریف ہے اور اس پر میں، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام ان کے شکرگزار ہیں، ہم ہمیشہ ان دونوں ممالک کے شکرگزار رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مسلح افواج کی قیادت کی،  انہوں نے بہادری سے مقابلہ کیا اور اعلیٰ ترین پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، پوری پاکستانی قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی، یہ بے خوف، نڈر اور آہنی عزم کا صبر و تحمل کے ساتھ اظہار تھا جس کے ذریعے بھارتی جارحیت کا مقابلہ کیا گیا، اﷲ تعالیٰ کے فضل، پاکستانی عوام اور دوست ممالک کی حمایت سے ہم نے فتح حاصل کی۔

وزیراعظم  نے کہا کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں اور ہمیشہ امن کے خواہاں رہیں گے، اس کیلئے مذاکرات ضروری ہیں اور فوری توجہ طلب تنازعات جیسا کہ مقبوضہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل، پانی کا مسئلہ ہے، بدقسمتی سے بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، یہ پاکستانی عوام کیلئے زندگی کا معاملہ ہے، 24 کروڑ عوام اس پانی کو زراعت سمیت دیگر مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں، یہ بدقسمتی ہے کہ بھارت ہمارے دریاؤں میں بہنے والے پانی کو روکنے کی دھمکی دے رہا ہے، یہ کبھی بھی ممکن نہیں اور نہ ہی ہو گا، ہم اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں کہ بھارت کبھی ایسا نہیں کر سکے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بھارت مخلص ہو کر انسداد دہشت گردی پر بات کرنا چاہتا ہے تو پاکستان بھارت سے اس معاملہ پر بھی بات چیت کیلئے تیار ہے، ہم دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوئے ہیں، 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا ہے، اس لعنت کو شکست دینے کیلئے اس سے بڑے عزم کی کوئی مثال نہیں ہو سکتی، پاکستان بھارت کے ساتھ تجارت کے فروغ سمیت تمام ضروری مسائل پر مذاکرات کیلئے تیار ہے۔

Watch Live Public News