ایمازون کا 14 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ

ایمازون کا 14 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ

ویب ڈیسک: ایمازون نے 14 ہزار ملازمین کی نوکریاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ کمپنی کی تنظیمِ نو کے ایک بڑے مرحلے کا حصہ ہے، جس کی ایک بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے  کے مطابق کمپنی نے ملازمین کو بھیجے گئے پیغام میں کہا ہے کہ یہ اقدام بیوروکریسی میں مزید کمی، اضافی انتظامی سطحیں ختم کرنے اور وسائل کو اُن شعبوں میں منتقل کرنے کے لیے ہیں جہاں ہم اپنی سب سے بڑی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہ پیغام بعد میں ایمازون کی ویب سائٹ پر بھی جاری کیا گیا تھا۔

ایمازون تقریباً تیس ہزار کارپوریٹ نوکریوں میں کٹوتی کا منصوبہ بنا رہا ہے، یہ فیصلہ کمپنی کی اُس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ کووِڈ-19 کے دوران ضرورت سے زیادہ بھرتیوں کے اثرات کو متوازن کر رہی ہے۔

ایمازون کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال کے اختتام پر کمپنی کے فل ٹائم اور پارٹ ٹائم ملازمین کی تعداد 15.6 لاکھ تھی، جن میں سے تقریباً 3.5 لاکھ کارپوریٹ عملہ ہے۔

کمپنی کے مطابق، ان اقدامات سے ٹیموں کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے اور وہ 2026 کی جانب بڑھتے ہوئے چند شعبوں میں کمی اور دیگر میں بھرتی جاری رکھے گی۔

ایمازون کی سینئر نائب صدر برائے پیپل ایکسپیرینس اینڈ ٹیکنالوجی، بیتھ گیلیٹی نے نوٹ میں بتایا کہ کمپنی متاثرہ ملازمین کو 90 دن کا وقت دے گی تاکہ وہ اندرونِ خانہ نئی ملازمت تلاش کر سکیں،  کمپنی کی بھرتی کرنے والی ٹیمیں ان امیدواروں کو ترجیح دیں گی۔

ایمازون نے اپنے نوٹ میں مزید کہا کہ سی ای او اینڈی جَیسی انتظامی سطحوں میں کمی اور مصنوعی ذہانت پر زیادہ انحصار کرنے کے منصوبے پر گامزن ہیں۔

Watch Live Public News