ویب ڈیسک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی پیشکش کی ہے۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے صحافیوں کو بتایا کہ سیکریٹری جنرل کی خواہش ہے کہ پاکستان اور بھارت موجودہ کشیدگی کو کم کرنے اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے مسائل کا پرامن حل تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ہر ایسے اقدام کی حمایت کے لیے تیار ہے جو فریقین کے لیے قابل قبول ہو اور بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائے۔
یاد رہے کہ یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے ایک پرتشدد واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، بھارت نے اس واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا، جن میں سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور پاکستانی ویزہ ہولڈرز کی ملک بدری شامل ہیں۔ جواباً پاکستان نے بھی بھارتی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا اور بھارت کے لیے ویزہ سہولتیں معطل کرنے کے ساتھ اپنی فضائی حدود بھارتی پروازوں کے لیے بند کر دی۔
فرحان حق نے مزید واضح کیا کہ اقوام متحدہ کا فوجی مبصر مشن (UNMOGIP) لائن آف کنٹرول پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتا رہتا ہے، تاہم پہلگام واقعے کے مقام پر ان مبصرین کی تعیناتی نہیں ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے مبصرین کو آزادانہ کام کی اجازت دیتا ہے جبکہ بھارت اس اجازت سے انکاری ہے۔