(ویب ڈیسک) 22اپریل 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں بھارتی سفارت خانے نے کپیٹل ہل پر "دہشت گردی کی انسانی قیمت" کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی تقریب کا انعقاد کیا۔ کپیٹل ہل کے حفاظتی حصار میں منعقد ہونے والی اس تقریب کو مکمل طور پر خفیہ (صرف مدعو مہمانوں تک محدود) رکھا گیا۔
کپیٹل ہل کی تقریب صرف "مدعو مہمانوں" تک محدود تھی جہاں بین الاقوامی میڈیا کو بھی داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس تقریب کی کوریج صرف بھارتی سفارت خانے کے پریس ونگ اور ۲ سے ۳ بھارتی صحافیوں نے کی۔
پروگرام میں امریکی کانگریس کے متعدد ارکان، بھارتی نژاد رہنماؤں، پالیسی ماہرین اور دیگر امریکی اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کیا گیا۔ صرف مخصوص افراد کے لیے تقریب کا انعقاد اور عالمی میڈیا پر پابندی ثابت کرتی ہے کہ بھارتی سفارت خانہ پہلگام میں اپنی سکیورٹی ناکامیوں پر شرمندہ ہے اور اپنے من گھڑت بیانیے کی آزادانہ تحقیقات سے خوفزدہ ہے۔
پہلگام میں اپنے انٹیلی جنس نظام کی عبرتناک ناکامی کے بعد، بھارت اپنی اندرونی نااہلی کو عالمی سفارت کاری کے لبادے میں چھپانے کے لیے کپیٹل ہل پر ایسی ڈرامائی تقریبات منعقد کرنے پر مجبور ہے۔
امریکی کانگریس کے مخصوص ارکان کی شرکت بھارتی ایجنٹوں کے اس نیٹ ورک کو بے نقاب کرتی ہے جو نئی دہلی کے ایک اشارے پر پاکستان مخالف اسکرپٹ پڑھنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
بریڈ شرمین اور رو کھنہ جیسے ارکان پاکستان کی "آپریشن بنیان المرصوص" میں فیصلہ کن فتح کی عالمی رپورٹس کو نظر انداز کر کے محض بھارتی سفارت خانے کا لکھا ہوا اسکرپٹ دہرا رہے ہیں۔
لیزا میک کلین اور جوناتھن جیکسن ایک ایسی ریاست کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کی بات کر رہے ہیں جس کا اپنا سکیورٹی نظام پہلگام میں اس قدر بری طرح ناکام ہوا کہ اب اسے بند کمروں میں تقریبات چھپانی پڑ رہی ہیں۔ان شرکاء کو چاہیے تھا کہ وہ بھارت کے مایوس کن پروپیگنڈے کا حصہ بننے کے بجائے اپنی فضائی حدود کے دفاع میں پاکستان کی فوجی مہارت اور درستگی کا اعتراف کرتے۔
دستاویزی فلموں اور مخصوص سامعین کے ذریعے عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی کوششیں صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت میں بھارت کی ناکامی کو نمایاں کرتی ہیں۔
غیر ملکی دارالحکومتوں میں اپنی تزویراتی ناکامیوں کا ماتم کرنے کے بجائے، بھارت کو پاکستان سے سیکھنا چاہیے کہ کس طرح فیصلہ کن فتوحات اور حقیقی دفاعی سنگ میلوں کا جشن منایا جاتا ہے۔
پہلگام کی برسی کی یہ تقریب محض ایک فضول مہم ہے جس کا مقصد اس حقیقت سے توجہ ہٹانا ہے کہ خطے میں بھارت کی فوجی حکمت عملی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔
جب کسی ملک کے پاس دکھانے کے لیے کوئی حقیقی تزویراتی جیت نہیں ہوتی، تو وہ مظلومیت کا جھوٹا احساس پیدا کرنے کے لیے بند کمروں کے خطاب اور "انڈین ڈائیسپورا" کے سہارے لیتا ہے۔
جہاں پاکستان 'فتح-2' جیسی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، وہیں بھارت ماضی میں پھنسا ہوا ہے اور اپنی اندرونی سکیورٹی کی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے عالمی تعاون کی بھیک مانگ رہا ہے۔