ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کی سربراہ سوزن موناریز کو استعفیٰ دینے سے انکار کرنے پر ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ برطرفی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی محکمہ صحت اور ویکسین پالیسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ ان تبدیلیوں کی قیادت وزیرِ صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کر رہے ہیں، جن کے سخت اقدامات کے نتیجے میں سی ڈی سی کے پانچ دیگر سینئر افسران نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔
ماہرِ صحت سوزن موناریز نے ایک ماہ قبل ہی ادارے کی قیادت سنبھالی تھی، تاہم اچانک انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ابتدا میں محکمہ صحت و انسانی خدمات (ایچ ایچ ایس) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ وہ اب ادارے کی ڈائریکٹر نہیں رہیں۔ تاہم موناریز کے وکلا نے وضاحت دی کہ انہوں نے نہ تو استعفیٰ دیا ہے اور نہ ہی وائٹ ہاؤس سے باضابطہ طور پر برطرفی کا کوئی نوٹس ملا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ اپنے عہدے سے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔
Susan Monarez is no longer director of the Centers for Disease Control and Prevention. We thank her for her dedicated service to the American people. @SecKennedy has full confidence in his team at @CDCgov who will continue to be vigilant in protecting Americans against infectious…
— HHS.gov (@HHSGov) August 27, 2025
بعدازاں وائٹ ہاؤس نے تصدیق کر دی کہ سوزن موناریز کو صدر ٹرمپ کے حکم پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کوش دیسائی نے کہا کہ سوزن موناریز صدر ٹرمپ کے "امریکا کو دوبارہ صحت مند بنانے" کے ایجنڈے سے ہم آہنگ نہیں تھیں، اسی وجہ سے انہیں برطرف کیا گیا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، رابرٹ ایف کینیڈی نے موناریز پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان کی نئی ویکسین پالیسی کی حمایت کریں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انکار کے بعد ہی انہیں پہلے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا، اور جب انہوں نے مزاحمت کی تو بالآخر وائٹ ہاؤس نے انہیں ہٹا دیا۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب امریکا میں ویکسینیشن پالیسی اور صحت عامہ کے اقدامات پر گہری تقسیم پائی جاتی ہے اور سی ڈی سی جیسے بڑے ادارے میں قیادت کی تبدیلی مزید تنازع کھڑا کر سکتی ہے۔