ویب ڈیسک: صوبائی محکمۂ تعلیم نے سندھ ہائی کورٹ (سکھر بینچ) کے احکامات کی روشنی میں تمام نجی اسکولوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ پسماندہ طبقے کے کم از کم 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے قانونی تقاضے پر سختی سے عمل کریں۔
یہ احکامات سندھ ہائی کورٹ کے 12 جنوری 2026ء کے فیصلے اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے مراسلے کی بنیاد پر دیے گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سندھ رائٹ آف چلڈرن ٹو فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2013ء کے تحت تمام نجی اسکولوں کو اپنے کُل طلبہ میں سے کم از کم 10 فیصد کو مفت تعلیم دینا لازمی ہے۔
اس ضمن میں اسکولوں کو زیرو فیس واؤچرز اور دیگر دستاویزات جمع کروانی ہوں گی۔
محکمۂ تعلیم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نجی اسکولوں کی رجسٹریشن اور تجدید صرف اس صورت میں کی جائے گی جب وہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی رپورٹ جمع کروائیں گے۔
احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ڈائریکٹر کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔