ویب ڈیسک: انگلینڈ اور بھارت کے ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستانی کرکٹ شائقین محمد فاروق نذر کو اس لئے اسٹیڈیم سے باہر جانا پڑا کیوں اُس نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی شرٹ پہنی ہوئی تھی اس بارے پبلک نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمد فاروق نذر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ لنچ کے ٹائم ہوا، میں کرکٹ فین اور جرنلسٹ ہوں، یہاں ٹی وی پر کرکٹ پروگرامز بھی کرتا رہتا ہوں۔
’پبلک نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ساری حقیقت بیان کردی، پاکستانی کرکٹ فین محمد فاروق نذر نے بتایا کہ اُس روز صبح سے پاکستانی کرکٹ ٹیم والی شرٹ پہنی ہوئی تھی، اسٹیڈیم میں کسی نے مجھے روکا نہیں، 2 گھنٹے میچ دیکھتا رہا میں اردگرد بھارتی کرکٹ شائقین بھی تھے، بھارتی ٹیم کے بیٹر شبمن گل نےسنچری بنائی تو اس کو داد دی، 2 گھنٹے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، مجھے نہیں سمجھ آئی لنچ کے بعد گراونڈ کا سٹاف ممبر میرے پاس آگیا اور کہا کہ آپ اس شرٹ کو چھپالیں۔
یہاں ’یو کے‘ کے اخبارات نے بھی اس معاملے کو اٹھایا ہے، مجھے سمجھ نہیں آئی وہ کہہ رہے تھے اس شرٹ کو ڈھانپ لیں اگر وہ مجھے کہتے خود کو چھپا لو تو ایسا کرلیتا لیکن میں پاکستان کی شناخت کو چھپا نہیں سکتا تھا، ہم فخر محسوس کرتے ہیں اس کو صرف قبر کی مٹی ہی ڈھانپ سکتی ہے۔
میں ان نے اُن سے پوچھا بھی کے بتائیں کسی نے کوئی شکایت کی ہے یا کوئی اور وجہ ہے؟ لکھ کر وجہ بتائیں، بعد میں اُن کے ساتھ نیچے گیا اور وہ یہی تقاضا کرتے رہے کہ اس کو ڈھانپ لیں،ان کو دو ٹوک جواب دیا کہ میں اس کو ڈھانپ نہیں سکتا میچ چھوڑ کر چلا جاتا ہوں۔
میرے پیچھے بیٹھے لوگوں نے بھی میری سپورٹ کی اور کہا یہ 2 گھنٹے سے ہمارے سامنے ہی ہے، انڈین فینز سے بھی پوچھا مجھے سے کوئی شکایت تو نہیں آپ کو؟ مگر سمجھ نہیں آئی، میں پی سی بی چیئرمین سے درخواست کرتا ہوں اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے، مجھ پر اگر شک تھا تو مجھے گھر کیوں آنے دیا گیا؟ 2 گھنٹے بعد پتا نہیں کسی نے شکایت کی ہے؟ کچھ خبریں یہ بھی آرہی ہیں کہ لنکا شائر کرکٹ کی بھارتی بورڈ کے ساتھ’understanding‘ ہے ہوسکتا ہے ان کی طرف سے ایسا کیا گیا ہو؟
یہ انگلینڈ ای سی بی پر بھی ایک دھبہ ہے کہ بغیر وجہ سے آپ کسی تماشائی کو نکال دیں تو تذلیل کی بات ہے، میں نے یو کے کے طریقہ کار کے مطابق متعلقہ حکام کو ای میل کردیا ہے تاکہ معاملے کی چھان بین ہوسکے۔
پاکستانی کرکٹ شائقین محمد فاروق نذر کا کہنا تھا کہ کھیل کا میدان ہو یا جنگ کا اس میں ان کو شکست ہوئی ہے، یہ ’ہرا رنگ‘ بھارتیوں کھلاڑیوں کو ایسا لگ رہا تھا رافیل طیارے گرانے والابندہ میں ہوں، جو ایڈونچر بھارت کے ساتھ ہوگیا اب بھارتی حکومت کو چاہیے آگے بڑھیں، پاکستان کی طرف سے پہلے ہی کہا جاچکا ہے کہ پہلگام واقعہ کی تحقیقات کرالیں۔
محمد فاروق نذر کا مزید کہنا تھا کہ جتنی مجھ میں ہمت تھی وہ کل میں نے کیا، کچھ لیگل کام ہیں پی سی بی چیئرمین کے کرنے والے، یہاں پاکستانی ایمبیسی کے ہائی کمشنر نے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا، لاکھوں لوگ پاکستان سے متعلق یہ بات کررہے ہیں مگر ابھی تک نہ قونصلیٹ اور نہ پاکستان ایمبیسی نے مجھے سے رابطہ کیا۔
میں سابق پاکستانی کرکٹرز اور وسیم اکرم سے کہوں گا کوئی نہ کوئی ٹویٹ ضرور کریں اور معاملے کی مذمت کی جائے۔
محمد فاروق نذر نے مذاقاً کہا کہ میں تو کہوں گا مجھے ’چاچا کرکٹ جونیئر‘ کا خطاب دے دیا جائے اور جہاں پاکستان کا میچ ہو میں قومی کرکٹ ٹیم کی شرٹ پہن کر وہاں جایا کروں۔ مجھے یہ پہن کر بڑا فخر محسوس ہورہا ہے۔