ویب ڈیسک: بنگلا دیش میں سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر بڑھنے لگا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتوں نے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر احتجاج شروع کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بدھ کے روز دارالحکومت ڈھاکا میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے ایک بھرپور ریلی کا انعقاد کیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے ملک کے عبوری سربراہ ڈاکٹر محمد یونس سے مطالبہ کیا کہ رواں سال دسمبر 2025 میں شفاف انتخابات کرائے جائیں تاکہ ملک کو جمہوری عمل کے تحت منتخب قیادت میسر آسکے۔
یہ مظاہرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف ذرائع کے مطابق بنگلا دیش کے آرمی چیف نے بھی انتخابات جلد کرانے کی حمایت کی ہے، جس سے سیاسی منظرنامے میں مزید ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔
دوسری جانب، ڈاکٹر یونس اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ ملکی انتخابات جون 2026 میں کرائے جائیں گے، اور فی الحال اس شیڈول میں کوئی تبدیلی متوقع نہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال اگست 2024 میں ہونے والی طلبہ تحریک کے بعد اُس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد ملک چھوڑ کر بھارت روانہ ہو گئی تھیں، جس کے بعد ڈاکٹر محمد یونس نے عبوری حکومت کا چارج سنبھالا۔
یہ بھی رپورٹ ہوا ہے کہ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر ملک میں پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کے باعث سیاسی خلا مزید گہرا ہو گیا ہے۔
بی این پی کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی بحالی کے لیے فوری انتخابات ناگزیر ہیں اور عوام مزید غیر منتخب حکومت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔