امریکی عدالت نے ٹرمپ ٹیرف کوغیرقانونی قرار دیدیا

امریکی عدالت نے ٹرمپ ٹیرف کوغیرقانونی قرار دیدیا
کیپشن: امریکی عدالت نے ٹرمپ ٹیرف کوغیرقانونی قرار دیدیا

ویب ڈیسک: امریکا میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسی کو ایک بڑا جھٹکا لگا ہے، جب امریکی عدالت نے ان کی جانب سے عائد کیے گئے وسیع تجارتی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے روکنے کا حکم جاری کر دیا۔

بی بی سی کے مطابق، امریکی تجارتی عدالت کے تین ججوں پر مشتمل بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ نے اپنے ہنگامی اختیارات کا غلط استعمال کیا اور دنیا بھر کے ممالک پر ٹیرف لاگو کر کے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔

عدالتی فیصلے کا عالمی اثر

فیصلے کے بعد مالیاتی منڈیوں میں بھی فوری ردِعمل دیکھا گیا اور امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا۔

جاپان، ہانگ کانگ اور جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹس میں 1 سے 2 فیصد تک بہتری آئی۔

یورپی مارکیٹس میں بھی تیزی دیکھی گئی۔

ٹرمپ کا ردعمل اور اپیل

ٹرمپ انتظامیہ نے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے فوری اپیل دائر کر دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ"غیر منتخب ججوں کو قومی سلامتی جیسے اہم معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔"

ٹرمپ کے بقول، ان ٹیرف کا مقصد مقامی صنعت کو تحفظ دینا اور غیر ملکی مصنوعات پر انحصار کم کرنا تھا۔ لیکن ماہرین کے مطابق، ان پالیسیوں نے امریکی صارفین پر مہنگائی کا اضافی بوجھ ڈال دیا۔

شکایت کنندہ کمپنیوں کا مؤقف

یہ مقدمہ نیویارک کی شراب درآمد کرنے والی کمپنی VOS Selections اور دیگر چھوٹے کاروباری اداروں نے دائر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیرف ان کے لیے معاشی طور پر تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔

برطانیہ کا محتاط رویہ

ادھر برطانیہ نے تاحال اس فیصلے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ یاد رہے کہ ایک مجوزہ معاہدہ، جس کے تحت کچھ برطانوی مصنوعات کو ان امریکی ٹیرف سے استثنا ملنے کی امید تھی، ابھی تک نافذ العمل نہیں ہو سکا۔

Watch Live Public News