ویب ڈیسک: توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وکیل مقرر کرنے کے لیے آخری موقع دیا جا رہا ہے،آئندہ سماعت پر اگر وکیل مقرر نہ کیا گیا تو عدالت سرکاری وکیل مقرر کر دے گی۔
تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی۔ بانی پی ٹی آئی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔بشری بی بی کی حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی گئی۔
ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی جانب سے بشری بی بی کی حاضری سے استثنی کی درخواست کی مخالفت کی گئی۔
ایف آئی اے پراسیکیوٹرعمیرمجید نے کہا کہ ضمانت ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم ٹرائل کیلئے عدالت پیش نہ ہو ۔حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر بشریٰ بی بی کے دستخط بھی موجود نہیں، عدالت نے آج کی تاریخ فرد جرم عائد کرنے کے لیے مقرر کی تھی۔
پراسیکیوٹر عمیر مجید نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ ٹو کیس کا ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چلایا جائے۔
عدالت نے بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر حاضر ہونے کا نوٹس جاری کر دیا۔
بانی پی ٹی آئی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں وکیل مقرر کرنے کے لیے عدالت سے وقت مانگ لیا۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتے سے وکلا سے ملاقات اور مشاورت کا وقت نہیں دیا گیا، عمران خان نے مشاورت کے لیے 4 وکلا کے نام بھی عدالت کو دئیے۔وکلا میں بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر خان، بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر سلمان صفدر کے نام شامل ہیں۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو وکلا سے مشاورت کے لیے 31 اکتوبر تک وقت دے دیا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وکیل مقرر کرنے کے لیے آخری موقع دیا جا رہا ہے،آئندہ سماعت پر اگر وکیل مقرر نہ کیا گیا تو عدالت سرکاری وکیل مقرر کر دے گی۔
بعد ازاں عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2 نومبر تک ملتوی کر دی۔