(ویب ڈیسک ) چوہدری اعجاز کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گالم گلوچ کی گئی، میرے ساتھ جو رویہ اختیار کیا وہ میں یہاں بیان نہیں کر سکتی، ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں صرف میرے شوہر ہی سیاست کرتے ہیں، ہم پاکستان کے شہری ہیں ہمارے ساتھ سیاست کے نام پر اس طرح ظلم نہ کریں۔
چوہدری اعجاز کی اہلیہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیارہ اکتوبر کو ہمارے گھر میں چھاپہ مارا گیا، سب کے منہ کپڑے سے ڈھنپے ہوئے تھے، انہوں نے آتے ہی ہمارے گھر کے ملازمین کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا،ان سے بار بار پوچھا کہ چوہدری اعجاز کہاں ہیں؟۔
چوہدری اعجاز کی اہلیہ نے کہا کہ انہوں نے ہمارے گھر کے ملازمین کی نازیبہ ویڈیوز بنائیں، انہوں نے میرے کمرے کا دروازہ بھی توڑنے کی کوشش کی،میری گیارہ ماہ کی بچی کو بھی انہوں نے پاؤں سے پکڑ کر گھسیٹا ہے، میرے سر پر چادر نہ پاؤں میں جوتے تھے مجھے ایک روم میں بند کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گالم گلوچ کی گئی،میرے ساتھ جو رویہ اختیار کیا وہ میں یہاں بیان نہیں کر سکتی، ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں صرف میرے شوہر ہی سیاست کرتے ہیں، ہم پاکستان کے شہری ہیں ہمارے ساتھ سیاست کے نام پر اس طرح ظلم نہ کریں۔
اہلیہ چوہدری اعجاز نے کہا کہ کل نامعلوم افراد ایک بار پھر آئے ، انھوں نے کہا ہم سی ڈی اے کے لوگ ہیں ، انھوں نے ہمارے گھر پر توڑ پھوڑ کی ، میرے پاس تمام ثبوت اس حوالے سے موجود ہے۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ میں نے قومی اسمبلی میں اس مسئلے کو اٹھایا تھا ، اس دن وزیر اعظم شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر حکومتی اراکین موجود ہے ۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی اور وزیر اعظم شہباز شریف ان جرائم کے ذمہ دار ہیں، ہمارے لوگوں پر دن رات مقدمے بنائے جارہے ہیں ، اس طرح ملک نہیں چل سکتا جس طرح یہ چلا رہے ہیں ، یہ سب کچھ 26 ویں آئینی کے لیے کیا جارہا تھا۔