ویب ڈیسک: ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کے دبئی میں کھیلے گئے سنسنی خیز فائنل کے بعد بھارتی ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو کو پریس کانفرنس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
پورے ٹورنامنٹ کے دوران اسپورٹس مین اسپرٹ کی کھلی خلاف ورزیوں اور فائنل کے بعد ٹرافی وصول نہ کرنے کے تنازع نے بھارتی کپتان کو مشکل میں ڈال دیا۔ صحافیوں نے تابڑ توڑ سوالات کے ذریعے بھارتی ٹیم کے رویے پر وضاحت مانگی لیکن سوریا یادیو براہِ راست جواب دینے کے بجائے بار بار بات گول کرتے رہے۔
ایک صحافی نے ٹرافی سے متعلق استفسار کیا کہ آخر بھارتی ٹیم نے چیمپئن ہونے کے باوجود ایوارڈ کیوں نہیں لیا، جس پر سوریا یادیو نے جواب دیتے ہوئے کہا، ’’ٹرافی کے بارے میں کسی نے ہمیں کچھ نہیں کہا، یہ فیصلہ ہم نے خود گراؤنڈ میں کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’چیمپئنز کا بورڈ آ کر واپس چلا گیا، ہم نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔‘‘ بھارتی کپتان نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اپنے کیریئر میں انہوں نے پہلی بار دیکھا ہے کہ جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی نہ دی جائے۔
تاہم صحافیوں کے کڑے سوالات کے باوجود سوریا یادیو نے پاکستانی ٹیم سے ہاتھ نہ ملانے اور تقریب میں اسپورٹس مین اسپرٹ کی خلاف ورزی جیسے الزامات پر براہِ راست کوئی جواب دینے سے گریز کیا۔ پاکستانی صحافی کے سوال پر تو بھارتی میڈیا مینجر نے مداخلت کرتے ہوئے سوال لینے سے ہی منع کر دیا۔
سوریا یادیو نے شرمندگی کے بجائے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کرکٹ کھیلی لیکن ہمیں ٹرافی نہیں ملی۔ ہم نے ایشیا کپ کی ٹرافی کو محسوس ضرور کر لیا ہے۔‘‘ ان کے یہ جملے بھارتی ٹیم کے رویے پر مزید سوالات کھڑے کر گئے کہ آخر ایک فاتح ٹیم کھیل کی اصل روح اور روایات کو نظرانداز کیسے کر سکتی ہے۔
یہ پریس کانفرنس نہ صرف بھارتی ٹیم کی اسپورٹس مین اسپرٹ پر سوالیہ نشان چھوڑ گئی بلکہ ایشیا کپ کے تاریخی فائنل کے بعد پیدا ہونے والے تنازع کو مزید گہرا کر گئی۔