ویب ڈیسک: اسرائیلی حکومت نے اپنی خفیہ ایجنسی شین بیت کے سربراہ رونن بار کی برطرفی کا فیصلہ واپس لے لیا ہے، جس سے متعلق عدالت کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو نے مارچ میں رونن بار کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اسرائیلی سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔
رونن بار نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا کہ وہ 15 جون کو اپنے عہدے سے ازخود مستعفی ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ نیتن یاہو اور رونن بار کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران سکیورٹی کی ناکامی تھی۔ اس واقعے کے بعد دونوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔
چند روز قبل اسرائیل میں ہزاروں افراد نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا، جن میں شین بیت کے سربراہ کو برطرف کرنے اور غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حکومتی فیصلے شامل تھے۔