مستند اطلاعات ہیں کہ 36 گھنٹے اہم ہیں ،نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار

مستند اطلاعات ہیں کہ 36 گھنٹے اہم ہیں ،نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار

(ویب ڈیسک ) نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ مستند اطلاعات  ہیں کہ 36 گھنٹے اہم ہیں ۔ جنگ میں پہل نہیں کریں گے لیکن اگر بھارت نے مہم جوئی کی کوشش کی تو بھرپور جواب دیں گے۔

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔اس موقع پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا   کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنا ہے، پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویہ اختیار کیا، پاکستان ہرقسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورا خطہ بھارت کے غیر ذمہ درانہ اقدامات کی وجہ سے خطرے میں ہے، ہم بین الاقوامی برداری سے اس خطرے سے متعلق رابطے میں ہیں، بھارت خطے میں جان بوجھ کرحالات کوکشیدہ کر رہا ہے۔

نائب وزیر اعظم نے کہا کہ  پاکستان سمیت کئی ممالک میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، بھارتی اقدامات جارحیت پر مبنی ہیں۔ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے، معصوم شہریوں کا قتل قابل مذمت ہے، پہلگام واقعے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے،  قومی سلامتی کونسل کا واضح پیغام ہے کہ پانی روکنے کا اقدام جنگ تصور کیا جائے گا ۔ بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا ،سندھ طاس معاہدے   میں معاہدے کو  یکطرفہ طور  پر معطل کرنے کی کوئی شق نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جنگ میں پہل نہیں کریں گے لیکن اگر بھارت نے مہم جوئی کی کوشش کی تو بھرپور جواب دیں گے۔قومی سلامتی کونسل نے بھی پہلگام واقعے کی مذمت کی ہے، بھارت نے سلامتی کونسل کے بیان میں پہلگام کا نام شامل کرنے کی کوشش کی، ہم نے سلامتی کونسل کے بیان میں پہلگام کے نام کی بجائے کشمیر کا نام شامل کروایا۔ پاکستان کی اعلیٰ سلامتی کے ادارے نے پہلگام واقعے کی مذمت کی، بھارت کا یہ بیانیہ کہ ہم نے مذمت نہیں کی یہ بالکل غلط ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر  کا بیان : 

ڈی جی آئی ایس پی آر  احمد شریف چودھری نے کہا کہ ہم اس واقعے کے حقائق پر جائیں گے الزامات پر نہیں ۔پہلگام واقعہ لائن آف کنٹرول سے  230 کلو میٹر دور ہوا جائے وقوعہ  سے اگر کوئی پولیس اسٹیشن جاتا ہے تو 30 منٹ لگتے ہیں ،10 منٹ میں کیسے ممکن ہے کہ کوئی ایف آئی آر درج ہو جائے۔10 منٹ میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں ہینڈلر جیسے لفظ استعمال کیے گئے۔

ترجمان پاک فوج  نے  کہا کہ    بھارتی بیانیےمیں کہا گیا کہ مسلمانوں نے فائرنگ  کی،ہندوؤں پر فائرنگ کی گئی،زیب لائن آپریٹر کی ویڈیو کو بنیاد بنا کر جھوٹا بیانیہ بنایا گیا۔ بھارتی میڈیا کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی ایجنسیوں نے یہ واقعہ  کرایا۔پہلگام واقعے کے چند منٹوں بعد پاکستان پر الزام دھر دیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پہلگام واقعے پر بھارت کے اندر سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ان سوالات پر ہم غور کر رہے ہیں دنیا غور کر رہی ہے۔الزام تراشی کے بجائے بھارتی حکومت کو سوالات کے جواب دینے ہونگے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پہلگام واقعے کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔چھٹی سنگھ پورہ ، پلواما جیسے واقعات کو بھارت نے سیاسی  طور پر استعمال کیا۔اطلاعات ہیں بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کو جعلی مقابلوں میں مارا گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا بھارت خود ایک دہشتگرد ریاست ہے  جو پاکستان میں ریاستی  دہشتگردی میں ملوث ہے۔پاکستان پر الزام لگا، کریٹ لو، الیکشن جیتو ، یہ ہے ان کا مقصد۔ بھارت بے گناہ شہریوں کو قتل کر کے دراندازی کا الزام لگاتا ہے۔بلوچستان میں سرینڈر کرنے والوں نے بتایا کہ کیسے بھارت انہیں اسپانسر کر رہا تھا۔ بلوچستان میں دہشتگردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت  موجود ہیں۔عالمی برادری کو بھارت کی پاکستان میں ریاستی دہشتگردی کو دیکھنا ہوگا۔

Watch Live Public News