(ویب ڈیسک ) وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکا بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ ایسے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرے اور ذمہ داری سے کام لے ۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ٹیلی فونک رابطہ، وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے پاکستان کی جانب سے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں پر امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے سیکریٹری روبیو کو پہلگام واقعہ کے بعد جنوبی ایشیاء میں حالیہ پیش رفت پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر میں مذمت کی۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اہم کردار کا ذکر کیا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے 90,000 سے زائد جانوں کی قربانی دی۔ پاکستان کو 152 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ۔
وزیراعظم نے بھارت کے بڑھتے ہوئے اشتعال انگیز رویے کو انتہائی مایوس کن اور تشویشناک قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی اشتعال انگیزی دہشت گردی بالخصوص افغان سرزمین سے سرگرم آئی ایس کے پی، ٹی ٹی پی، اور بی ایل اے سمیت عسکریت پسند گروپوں کو شکست دینے کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں سے توجہ ہٹانے کا کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پہلگام واقعے سے پاکستان کو جوڑنے کی بھارتی کوششوں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کیا۔ انہوں نے حقائق سامنے لانے کے لیے شفاف، قابل اعتماد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ ایسے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرے اور ذمہ داری سے کام لے ۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا انتخاب کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پانی پاکستان کے 240 ملین لوگوں کے لیے لائف لائن ہے۔ سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی فریق کے لیے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کی کوئی شق نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر تنازعہ کا پرامن حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔
وزیراعظم نے پاک - امریکہ دوطرفہ تعاون پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا نے گزشتہ 70 سالوں میں مل کر کام کیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں فریق مزید کئی شعبوں بشمول انسداد دہشت گردی اور معاشی تعاون کو بڑھانے، معدنیات کا شعبہ میں بھی تعاون کر سکتے ہیں۔ہماری حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران بڑی اقتصادی اصلاحات کی ہیں اور اس کے نتیجے میں پاکستان اب اقتصادی بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔
امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ روبیو نے تفصیلی بات چیت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا ۔مارکو روبیو نے جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کے لیے دونوں فریقوں کو مل کر کام جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔