ویب ڈیسک: لاپتا افراد کے لیے احتجاج کے پیش نظر بلوچستان بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروسز ایک بار پھر معطل کردی گئی جبکہ کوئٹہ سے اندرونِ ملک جانے والی ٹرین سروسز بھی آج بھی بند رہی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ اقدامات لاپتا افراد کے دن کے موقع پر صوبے کے مختلف اضلاع میں متوقع احتجاج کے پیش نظر کیے گئے ہیں انٹرنیٹ سروس کی معطلی اور عوامی مشکلات صوبے کے 36 اضلاع میں تھری جی اور فور جی موبائل انٹرنیٹ سروسز 6 اگست سے سکیورٹی خدشات کی بنا پر بند ہیں۔
صوبائی حکام نے بتایا کہ یہ بندش 31 اگست تک جاری رہ سکتی ہے، گذشتہ ہفتے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی کے ڈویژن بینچ نے حکم دیا تھا کہ جن علاقوں میں سیکیورٹی مسائل نہیں ہیں وہاں انٹرنیٹ بحال کیا جائے۔ تاہم آج صبح سے کوئٹہ سمیت پورے صوبے میں انٹرنیٹ سروسز دوبارہ معطل کردی گئی ہیں جس سے طلبہ، تاجروں اور آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد شدید متاثر ہوئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش سے آن لائن تعلیم فری لانسنگ اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی ہیں۔
واضح رہے کہ سینٹ اجلاس میں اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کئی دنوں سے انٹرنیٹ بند ہے اور کئی دنوں تک بند رہے گا ، کئی علاقوں میں ٹرانسپورٹ بھی بند ہے ۔