جنوبی کوریا طیارے حادثہ کی اصل وجوہات کا پتہ چل گیا

reason of crash south korean flight
کیپشن: reason of crash south korean flight
سورس: google

ویب ڈیسک : جنوبی کوریا میں طیارہ حادثہ کی اصل وجہ سامنے آگئی  فلائٹ  کریش لینڈنگ کے دوران رن وے کے اختتام پر ایک کنکریٹ کی دیوار سے ٹکرا کر آگ کا بگولہ بن گیا۔ لینڈنگ سے قبل طیارے نے ڈیٹا منتقل کرنا بند کردیا تھا۔

 پرندوں کے جھنڈ کا ٹکرانا

حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاہم مختلف ذرائع سے واقعے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور اس ضمن میں اس کنکریٹ کی دیوار کا محل وقوع اہم قراردیا جارہا ہے۔ آسٹریلیا  کے ایئر لائن ریٹنگز کے چیف ایڈیٹر جیفری تھامس نے کہا کہ ممکنہ طور پر پرندوں کے جھنڈ کا ٹکرانا اس مہلک حادثے کی جزوی وجہ تھی۔

  الیکٹرک سسٹم فیلئیر

تھامس نے کہا کہ شواہد کے مطابق ہوائی جہاز کو   الیکٹرک فیلئیر کا  بھی سامنا  تھا کیونکہ  پائلٹ کی جانب سے ’’مے ڈے ’’ کی پکار کے بعد طیارے  نے ٹریفک کنٹرول میں لوکیشن ڈیٹا - جسے "ADS-B ڈیٹا"  کہا جاتا ہے منتقل کرنا بند کر دیا تھا۔

’’ایسا لگتا ہے جیسے پائلٹ  مختلف نظاموں کے فیل ہونے سے نمٹ رہے تھے، انہوں نے لینڈنگ کے لیے اپنے ’’فلیپس’’  نہیں کھولے، اور انہوں نے کیریج کو  نیچے نہیں کیا،" ۔

کنکریٹ کی مضبوط دیوار’’ تباہی کا لمحہ ’’

سیٹلائٹ نقشے دکھاتے ہیں کہ کنکریٹ کا یہ ڈھانچہ کئی سالوں سے رن وے کی جنوبی انتہا پر باڑ کے قریب موجود ہے۔

اگر طیارہ دیوار سے نہ ٹکراتا تو یہ باڑ سے ٹکرا کر سڑک عبور کر کے ممکنہ طور پر ایک قریبی میدان میں رک جاتا۔

دیوار قوانین کے مطابق تھی، وزیر ٹرانسپورٹ

جنوبی کوریا کے نائب وزیر ٹرانسپورٹ جو جونگ وان نے کہا کہ رن وے کی 2800 میٹر لمبائی حادثے کا سبب نہیں تھی۔ 

انہوں نے اس دیوار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسے صنعت کے معیار کے مطابق بنایا گیا تھا۔

دیوار کا وہاں ہونا ہی جرم ہے ، ائیر سیفٹی ماہرین

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کنکریٹ کی دیوار سے ٹکر ’مجرمانہ‘ ہے۔ ہوابازی کے ماہرین کے مطابق جنوبی کوریا میں ہوائی اڈے کے حکام کو کنکریٹ کی دیوار کے بارے میں سنگین سوالات کا سامنا کرنا چاہیے۔

ایئر سیفٹی کے معروف ماہر ڈیوڈ لیرماؤنٹ نے سکائی نیوز کو بتایا کہ دیوار کے ساتھ تصادم ’تباہی کا لمحہ‘ تھا۔ ’نہ صرف [اس کے وہاں ہونے کا] کوئی جواز نہیں، بلکہ میرے خیال میں اس کا وہاں ہونا مجرمانہ فعل ہے۔‘

 کریش لینڈنگ کے دوران کیا ہوا؟

جیجو ایئر جو قدرے سستی ایئر لائن سمجھی جاتی ہے کے طیارے نے بینکاک سے جنوبی کوریا کے لیے پرواز بھری جس میں جہاز کے عملے سمیت کل 181 مسافر سوار تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ طیارے نے جنوبی کوریا کے موان ایئرپورٹ پر اتوار کی صبح تقریباً 9 بجے لینڈ کرنے کی کوشش کی جس کے فوری بعد کنٹرول ٹاور نے طیارے سے پرندہ ٹکرانے کے حوالے سے خبردار کیا۔

اور اس کے چند منٹ بعد ہی پائلٹ نے ’مے ڈے‘ کی وارننگ جاری کرتے ہوئے دوسری مرتبہ لینڈ کرنے کی کوشش کی۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لینڈنگ گیر اور پہیے کھلے بغیر ہی طیارے نے باڈی پر لینڈ کیا اور رن وے پر گھسٹتا ہوا   کنکریٹ کی دیوار کے ساتھ جا ٹکرایا جس کے بعد زور دار دھماکہ ہوا اور طیارہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔

اس حادثے میں عملے کے 6 میں سے چار اہلکار اور 175 مسافر ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تین سال سے 78 سال کی عمر کے تمام افراد کا تعلق جنوبی کوریا سے تھا جبکہ صرف دو تھائی لینڈ سے تھے۔

ریسکیو حکام نے 25 اور 33 سال کے دو فلائٹ اٹینڈنٹس کو ملبے سے زندہ حالت میں نکالا ہے۔

حادثہ  وجوہات کی فائنل  رپورٹ کب سامنے آئے گی؟

حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاہم پرندہ ٹکرانے اور برے موسم کی ممکنہ وجوہات  کے باوجود اصل نتائج آنے میں مہینوں لگ سکتے ہیں 

ایوی ایشن ماہر فلپ بٹرورتھ نے میڈیاکو بتایا کہ جہاز کو تباہ ہونے سے بچانے کا انتہائی مؤثر سسٹم طیارے کے اندر ہی موجود ہوتا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں ہونے والا یہ انتہائی شدید حادثہ ہے۔

برڈ سٹرائک یا پرندے کے ٹکرانے کا کیا مطلب ہے؟

پرواز کے دوران پرندے کا طیارے سے ٹکرانا انتہائی خطرنات ثابت ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی ایوی ایشن آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ طیارے کے ایئر انٹیکس یعنی انجن کو ملنے والی ہوا کے داخلی راستے میں اگر پرندہ پھنس جائے تو طیارہ اپنی طاقت کھو دیتا ہے۔

عالمی سطح پر پرندہ ٹکرانے کے باعث متعدد حادثات پیش آ چکے ہیں۔

حادثے کے فوری بعد فوج سمیت سینکڑوں فائر فائٹرز اور ہنگامی ٹیم کے دیگر اہلکار کو جائے وقوع پر تعینات کیا گیا جبکہ ملک کے قائم مقام صدر نے اسی جگہ کوخصوصی آفت زدہ زون قرار دیا تھا۔

حکومت کا ردعمل

یہ حادثہ ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب دوسری جانب جنوبی کوریا سیاسی بحران سے دوچار ہے۔ خیال رہے کہ  صدر یون سک یول نے مواخذے سے چند دن قبل 3 دسمبر کو مارشل لا کا اعلان کیا تھا جس کی بھرپور مزاحمت میں عام شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

جنوبی کورین ایوی ایشن کا حفاظتی ریکارڈ

جنوبی کوریا کی ہوا بازی کی صنعت کا حفاظتی ریکارڈ قدرے بہتر ہی رہا ہے اور حالیہ حادثہ جیجو ایئر کے لیے پہلا مہلک حادثہ تھا۔

12 اگست 2007 کو جیجو ایئر کا بمبارڈیئر Q400 طیارہ تیز ہواؤں کے باعث رن ​​وے سے اتر گیا تھا جس میں ایک درجن افراد زخمی ہوئے تھے۔

حالیہ حادثے سے پہلے جنوبی کوریا کی سرزمین پر مہلک طیارہ حادثہ 15 اپریل 2002 کو پیش آیا تھا جب بیجنگ سے سفر کرنے والا ایئر چائنا بوئنگ 767 بوسان-گیمھے کے قریب ایک پہاڑی سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جنوبی کوریائی ایئر لائن کا سب سے مہلک حادثہ 6 جولائی 2013 کو کیلیفورنیا میں پیش آیا تھا۔ ایشیانا ایئر لائنز کا بوئنگ 777 طیارہ لینڈنگ نہیں کر سکا تھا جس سے تین افراد ہلاک اور 182 زخمی ہوئے تھے۔

یکم ستمبر 1983 کو جنوبی کوریا کی ایئرلائن سب سے مہلک تباہی کا نشانہ بنی تھی جب ایک سوویت لڑاکا طیارے نے بوئنگ 747 کو مار گرایا تھا۔ جس کے بارے میں ماسکو نے کہا تھا کہ غلطی سے جاسوس طیارہ سمجھتے ہوئے نشانہ بنایا۔

امریکہ کے شہر نیو یارک سے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول جانے والی کورین ایئر کی اس پرواز میں سوار تمام 23 عملہ اور 246 مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔

Watch Live Public News