خالدہ ضیاء کے انتقال پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیشی قیادت کا اظہارِ تعزیت

خالدہ ضیاء کے انتقال پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیشی قیادت کا اظہارِ تعزیت
کیپشن: خالدہ ضیاء کے انتقال پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیشی قیادت کا اظہارِ تعزیت

ویب ڈیسک: بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء پاکستان کی پُرعزم اور مخلص دوست تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس غم کی گھڑی میں بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے مرحومہ کے اہلِ خانہ اور بنگلہ دیشی عوام سے دلی تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللّٰہ تعالیٰ خالدہ ضیاء کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے بھی سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ قوم ایک عظیم سرپرست اور رہنما سے محروم ہو گئی ہے۔

پروفیسر محمد یونس کا کہنا تھا کہ بیگم خالدہ ضیاء محض ایک سیاسی جماعت کی قائد نہیں تھیں بلکہ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب تھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ان کی عوامی خدمات اور مقبولیت کے اعتراف میں حکومت پہلے ہی انہیں ریاست کی نہایت اہم شخصیت قرار دے چکی تھی۔

چیف ایڈوائزر کے مطابق کثیرالجماعتی جمہوریت کی بحالی، سیاسی حقوق کے تحفظ اور آمریت کے خلاف جدوجہد میں خالدہ ضیاء کا کردار ہمیشہ احترام سے یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مضبوط قیادت نے کئی نازک ادوار میں قوم کو حوصلہ اور درست سمت فراہم کی۔

پروفیسر یونس نے بتایا کہ بیگم خالدہ ضیاء بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم تھیں اور انہوں نے اپنے شوہر، سابق صدر اور آرمی چیف ضیاءالرحمان کے 1981 میں قتل کے بعد سیاست میں عملی کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں 1980 کی دہائی کے اواخر میں جنرل ایچ ایم ارشاد کی طویل آمریت کے خاتمے میں اہم پیش رفت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ خالدہ ضیاء کے دورِ حکومت میں خواتین کے لیے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا، خصوصاً بچیوں کے لیے مفت تعلیم اور وظائف کے اجراء کو تاریخی اقدام قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی پارلیمانی انتخابات میں شکست سے دوچار نہیں ہوئیں اور 1991 سے 2008 تک مختلف حلقوں سے کامیابی حاصل کرتی رہیں۔

چیف ایڈوائزر کے مطابق اپنے پہلے دورِ حکومت میں انہوں نے معاشی اصلاحات اور آزاد معیشت کی بنیاد رکھی، جبکہ بعد کے برسوں میں وہ ایک مبینہ فاشسٹ دور میں طاقتور اپوزیشن کی علامت بن کر سامنے آئیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بدعنوانی کے مقدمات میں ان کی قید سیاسی انتقام کا نتیجہ تھی، جنہیں ان کے حامی آج بھی من گھڑت قرار دیتے ہیں۔

پروفیسر محمد یونس نے مرحومہ کے اہلِ خانہ، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے اپیل کی کہ وہ اس ناقابلِ تلافی قومی نقصان پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور بیگم خالدہ ضیاء کے لیے دعا کریں۔

Watch Live Public News