ویب ڈیسک: بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور تین مرتبہ ملک کی وزیرِ اعظم رہنے والی بیگم خالدہ ضیاء کو بنگلہ دیش کی جمہوری سیاست میں ایک مرکزی اور فیصلہ کن شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ان کا انتقال 30 دسمبر کو ڈھاکہ کے ایک نجی اسپتال میں ہوا، جہاں وہ طویل عرصے سے علیل تھیں۔
ان کی صحت اس عرصے کے دوران اور اس کے بعد مزید خراب ہوئی جب انہیں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں قید کا سامنا کرنا پڑا۔ شیخ حسینہ کی حکومت کو 2024 میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ خالدہ ضیاء کے انتقال کو بنگلہ دیش کی سیاست کے ایک اہم عہد کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے ملک کی کثیرالجماعتی مگر اکثر ہنگامہ خیز سیاست کو گہرے طور پر متاثر کیا۔
سیاست میں آمد اور قیادت کا سفر
دو بیٹوں کی والدہ، بیگم خالدہ ضیاء نے 1982 میں سیاست میں قدم رکھا، جب ان کے شوہر، اُس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل ضیاءالرحمان—جو بنگلہ دیش کے ممتاز مجاہدِ آزادی بھی تھے—کو قتل کر دیا گیا۔ ابتدا میں سیاست سے گریز کے باوجود وہ جلد ہی بی این پی کی صفِ اول کی قیادت بن کر ابھریں اور فوجی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی علامت قرار پائیں۔
ان کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریکوں نے جنرل حسین محمد ارشاد کی نو سالہ حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں ملک میں پارلیمانی جمہوریت بحال ہوئی۔ اسی دور میں وہ ایک مضبوط اور غیر لچکدار سیاسی قائد کے طور پر پہچانی جانے لگیں۔
تاریخ ساز کامیابی
1991 میں بیگم خالدہ ضیاء ایک مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں۔ آئندہ ایک دہائی میں انہوں نے تین مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے فرائض انجام دیے اور ملک کو اہم سیاسی و معاشی تبدیلیوں کے مراحل سے گزارا۔
ان کے دور میں معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کے فروغ پر زور دیا گیا، تاکہ بنگلہ دیش کو علاقائی اور عالمی منڈیوں سے جوڑا جا سکے۔ انہوں نے لڑکیوں کے لیے مفت تعلیم اور وظائف کا آغاز کیا، جسے خواتین کی تعلیم اور سماجی شمولیت کے لیے ایک تاریخی اقدام سمجھا جاتا ہے۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ وہ کبھی پارلیمانی انتخابات میں شکست سے دوچار نہیں ہوئیں اور مختلف حلقوں سے کامیابی حاصل کرتی رہیں۔
سیاسی رقابت اور جمہوری جدوجہد
بیگم خالدہ ضیاء کی سیاسی زندگی ان کی دیرینہ حریف شیخ حسینہ کے ساتھ مسلسل سیاسی کشمکش سے عبارت رہی۔ دونوں رہنماؤں نے باری باری اقتدار اور اپوزیشن میں رہتے ہوئے ملک کی سیاست کو گہرے طور پر متاثر کیا۔
حامیوں کے مطابق خالدہ ضیاء نے مختلف ادوار میں آمرانہ رجحانات اور مرکزیت کے خلاف کثیرالجماعتی جمہوریت کا دفاع کیا، جبکہ ناقدین کا مؤقف تھا کہ ان کے دور میں بعض سخت گیر سیکیورٹی پالیسیوں کی حمایت کی گئی، جن پر بعد میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی لگے۔
قانونی مقدمات اور قید
اپنے سیاسی کیریئر کے آخری برسوں میں بیگم خالدہ ضیاء کو متعدد قانونی مقدمات اور قید کا سامنا کرنا پڑا۔ بدعنوانی کے مقدمات میں سنائی گئی سزاؤں کو ان کی جماعت نے سیاسی انتقام قرار دیا۔ 72 برس کی عمر میں انہیں ڈھاکہ کی ایک پرانی جیل میں تنہائی میں رکھا گیا، جہاں طویل قید اور خراب صحت کے باعث وہ عملی سیاست سے تقریباً الگ ہو گئیں، تاہم بی این پی کے لیے وہ بدستور ایک علامتی قائد رہیں۔
وراثت اور عوامی یادداشت
ان کے انتقال پر بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ’قوم کی عظیم سرپرست‘ قرار دیا۔ اسی ماہ عبوری حکومت نے انہیں ’ریاست کی نہایت اہم شخصیت‘ کا درجہ دیا، جو عوامی جذبات اور ان کی تاریخی اہمیت کا عکاس ہے۔
سیاسی مبصرین کے نزدیک بیگم خالدہ ضیاء کی زندگی بنگلہ دیش کی اس طویل جدوجہد کی نمائندہ ہے، جس میں سول حکمرانی، فوجی مداخلت اور متنازع جمہوری ادوار ایک دوسرے سے جڑے رہے۔ ان کے انتقال کے ساتھ ایک ایسی سیاسی شخصیت رخصت ہو گئی ہے، جس کی جدوجہد اور وراثت بنگلہ دیش کی جدید تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔